بندرگاہوں کے سودے پر شور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی بندرگاہوں کا انتظام اربوں ڈالر دیے جانے کے عوض ایک عرب کمپنی کو دینے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ بش انتظامیہ کے اس فیصلے پر تنقید کرنے والے ان امریکی سیاستدانوں میں ریپبلکن سینیٹر بھی ہیں اور ڈیموکریٹ بھی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے نتیجے میں امریکہ میں دہشت گردی کا خطرہ اور بڑھ جائے گا لیکن بش انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایسے کسی بھی خطرے کو روکنے کے انتظامات اپنی جگہ موجود ہیں۔ ان بندرگاہوں میں جن میں نیو یارک اور نیو جرسی کی بندرگاہیں بھی شامل ہیں اب تک برطانوی کمپنی پی اینڈ کیو چلا رہی تھی اور وہ چھ ارب اسی کروڑ ڈالر یا تین ارب نوے کروڑ پاؤنڈ دینے پر تیار تھی لیکن ٹھیکہ دبئی کی ایک کمپنی ’دبئی پورٹ ورلڈ‘ کو دے دیا گیا۔ بش انتظامیہ اس سودے کی منظوری دے چکی ہے لیکن اس منظوری نے ڈیموکریٹس اور ریپبلکن دونوں کو چونکا دیا ہے۔ ان ناقدین کا کہنا ہے کہ گیارہ ستمبر کے حملوں میں جن لوگوں کو ہائی جیکر سمجھا جاتا ہے ان میں سے دو متحدہ عرب امارات کے رہنے والے تھے۔ ایوانِ نمائندگان میں داخلی سلامتی کے چئرمین ریپبلن سینیٹر لنڈسے گراہم نے مطالبہ کیا ہے کہ اس سودے کو فوراً روک دیا جائے اور اس سودے کی پوری اور تفصیلی تحقیقات کی جائیں۔ انہوں نے اس سودے کی حکومتی حمایت کو ’حکومت کا سیاسی بہرہ پن‘ قرار دیا ہے۔ ڈیموکریٹس سینیٹر چک سچمر کا کہنا ہے ’اصل بات اس سوال کا جواب تلاش کرنا ہے کہ 11/9 کے بعد ان (دبئی) پر اعتبار کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ | اسی بارے میں 11/9: ہائی جیکروں پر نیا تنازعہ10 August, 2005 | آس پاس جنرل ٹومی فرینک کے ’انکشافات‘16 August, 2004 | آس پاس سپین میں 11/9 کے مقدمے کا آغاز22 April, 2005 | آس پاس گیارہ ستمبر: رپورٹ کے اہم نکات22 July, 2004 | آس پاس بندرگاہوں پر امریکی نگران14.06.2003 | صفحۂ اول ’اہم‘ ملاقات میں ’معمولی‘ پیش رفت22 June, 2005 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||