BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 21 February, 2006, 11:31 GMT 16:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بندرگاہوں کے سودے پر شور
 بندرگاہیں
ان بندرگاہوں کو اب تک برطانوی کمپنی پی اینڈ کیو چلا رہی تھی
امریکی بندرگاہوں کا انتظام اربوں ڈالر دیے جانے کے عوض ایک عرب کمپنی کو دینے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

بش انتظامیہ کے اس فیصلے پر تنقید کرنے والے ان امریکی سیاستدانوں میں ریپبلکن سینیٹر بھی ہیں اور ڈیموکریٹ بھی۔

ان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے نتیجے میں امریکہ میں دہشت گردی کا خطرہ اور بڑھ جائے گا لیکن بش انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایسے کسی بھی خطرے کو روکنے کے انتظامات اپنی جگہ موجود ہیں۔

ان بندرگاہوں میں جن میں نیو یارک اور نیو جرسی کی بندرگاہیں بھی شامل ہیں اب تک برطانوی کمپنی پی اینڈ کیو چلا رہی تھی اور وہ چھ ارب اسی کروڑ ڈالر یا تین ارب نوے کروڑ پاؤنڈ دینے پر تیار تھی لیکن ٹھیکہ دبئی کی ایک کمپنی ’دبئی پورٹ ورلڈ‘ کو دے دیا گیا۔

بش انتظامیہ اس سودے کی منظوری دے چکی ہے لیکن اس منظوری نے ڈیموکریٹس اور ریپبلکن دونوں کو چونکا دیا ہے۔

ان ناقدین کا کہنا ہے کہ گیارہ ستمبر کے حملوں میں جن لوگوں کو ہائی جیکر سمجھا جاتا ہے ان میں سے دو متحدہ عرب امارات کے رہنے والے تھے۔

ایوانِ نمائندگان میں داخلی سلامتی کے چئرمین ریپبلن سینیٹر لنڈسے گراہم نے مطالبہ کیا ہے کہ اس سودے کو فوراً روک دیا جائے اور اس سودے کی پوری اور تفصیلی تحقیقات کی جائیں۔

انہوں نے اس سودے کی حکومتی حمایت کو ’حکومت کا سیاسی بہرہ پن‘ قرار دیا ہے۔

ڈیموکریٹس سینیٹر چک سچمر کا کہنا ہے ’اصل بات اس سوال کا جواب تلاش کرنا ہے کہ 11/9 کے بعد ان (دبئی) پر اعتبار کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد