جنرل ٹومی فرینک کے ’انکشافات‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افعانستان کے حملے سے بہت پہلے اسلام اباد میں سی آئی اے کا ہیڈ کوارٹر حامد کرزئی کو اپنے ملک کا رہنما بنانے کے لیے تیار کر رہا تھا۔ اس بات کا انکشاف ریٹائرڈ امریکی جنرل ٹامی فرینک نے 590 صفحات پر مشتمل اپنی سوانح عمری ’امریکن سپاہی‘ میں کیا ہے۔ کتاب کے مواد اور انداز سے یہ ظاہر ہے کہ یہ کتاب مالی منفعت کے علاوہ صدر جارج بش کی صدارتی انتخاب میں مدد کے لیے خاص طور اس وقت شائع کی گئی ہے۔ جنرل ٹامی فرینک امریکہ کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ آرمی چیف رہ چکے ہیں۔ ان کے زیر کمان پہلے افغانستان اور پھر بعد میں عراق پر حملہ کیا گیا۔ کتاب میں جنرل فرینک نے جنرل مشرف کی کافی تعریف کی ہے لیکن یہ بھی کہا ہے کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد ان کو دھمکی دی گئی تھی کہ وہ یہ فیصلہ جلد از جلد کریں کہ پاکستان دہشت گردی کی جنگ میں امریکہ کا اتحادی بنے گا یا دشمن۔ کتاب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان نے امریکی فوج کی مختلف ضرورتوں کے لیے 74 فوجی اڈے فراہم کیے اور اور جنرل مشرف امریکی امداد کے عوض اسمامہ بن لادن کو افعانستان سے نکلوانے کے لیے تیار تھے۔
صدر کرزئی کے ساتھ ملاقات کے بارے میں چار ستاروں والے جنرل ٹامی فرینک کہتے ہیں کہ ’سی آئی اے کا اسلام آباد کا سٹیشن امریکہ کے جلا وطن افغانستان سفارتخانے کا کام کرتا تھا اور کرزئی کو مستقبل کے رہنما کے طور پر تیار کر رہا تھا نہ کہ وہ بکھرے ہوئے نسلی گروہوں کو یک جا کر سکیں۔ میں بھی اس (حامد کر زئی) سے متاثر ہوا ۔ ہمیں طالبان کے مقابلے کے لیے پشتون حزب مخالف بنانے کی ضرورت تھی اور میرا ایمان تھا کہ کرزئی اس طرح کی طاقت بنا سکتے ہیں۔اگر دشمن کی مزاحمت مسمار ہو جاتا اور تاجک، ازبک اور ہزارہ پر مشتمل شمالی اتحاد کابل میں گھس جاتی تو افغانستان ایک اور خانہ جنگی کا شکار ہو جاتا جس میں شمالی گروہ پشتون اکثریت سے بر پیکار ہوتا۔ افغان جنگ اور شمالی اتحاد کے ساتھ مذاکرات کو قالینوں کی سودے بازی کا مضحکہ خیز نام دیتے ہوئے جنرل ٹامی فرینک بتاتے ہیں کہ انہوں نے افغان کمانڈر جنرل محمد فہیم سے ملنے سے پہلے اپنے نائب کے ساتھ اس ڈرامے کی پوری ریہرسل کی جس میں ’برے سپاہی‘ کا کردار اپنے ذمے لیا اور اپنے نائب کو افغانوں کے ہمدرد سپاہی کا رول دیا۔ جنرل فہیم نے سات ملین ڈالر طلب کیے تو سکرپٹ کے مطابق جنرل ٹامی فرینک غصے کا ڈرامہ رچاتے ہوئے یہ کہہ کر باہر نکل گئے کہ ’یہ سب بکواس ہے‘۔ ان کے نائب نے پھر پانچ ملین پر سودا کر لیا۔
جنرل ٹامی فرینک نے پاکستان کے بارے میں لکھا ہے کہ ان کو صدر مشرف کی کمزوری کا علم تھا کہ ان کی فوجی صلاحیت پر میلر امینڈمنٹ اور دوسری امریکی پابندیوں کے تحت کمزور ہو چکی ہے۔ وہ جب جنرل مشرف سے پہلی مرتبہ ملے تو انہیں لگا کہ یہ ایک سپاہی کی دوسرے سپاہی (سولجر ٹو سولجر) سے ملاقات ہے۔ جنرل مشرف نے ان کو خطے کے بارے میں اس طرح سے بریفنگ دی جیسے کوئی جنرل فوجی افسر دیتا ہے۔ اس گفتگو میں جنرل مشرف نے طالبان کی حمایت کو پاکستان کی مجبوری بتایا کیونکہ بقول جنرل مشرف طالبان نے افغانستان میں استحکام پیدا کیا اور خون خرابہ روک دیا ہے۔ مزید برآں پاکستان کو ہندوستان کے خطرے کے پیش نظر اپنی ایک سرحد پر امن چاہیے۔ جنرل ٹامی فرینک کا کہنا ہے کہ سی آئی اے کے ڈائریکٹر جارج ٹینیٹ ان کو پہلے ہی بتا چکے تھے کہ پاکستان افغانستان میں ’سٹرٹیجک ڈیپتھ‘ حاصل کرنے کے لیے افغانستان میں اثر و رسوخ قائم رکھنا چاہتا ہے۔ بقول جنرل فرینک اگر اسلام آباد کا دفاع کرنے کے لیے پاکستان کو افغانستان میں ’کمیونیکیشن‘ کے سینٹر بنانا پڑیں تو وہ بنا سکے۔ جنرل مشرف نے پہلی ملاقات میں اس بات کا بھی عندیہ دیا کہ پاکستان طالبان کے ساتھ لین دین میں امریکہ کی مدد کر سکتا ہے۔ جنرل مشرف نے کہا کہ ’ پاکستان اسامہ بن لادن اور القاعدہ کے بارے میں مدد کے لیے تیار ہے اگر امریکہ ہمارا اثر و رسوخ بڑھانے میں مدد کرے۔ پاکستان کے کہنے پر ہو سکتا ہے کہ طالبان اسامہ کو ملک سے نکال دیں یا کسی تیسرے غیر جانبدار ملک میں اس پر مقدمہ چلانے کے لیے تیار ہو جائیں۔‘ اس گفتگو سے جنرل ٹامی فرینک نے یہ نتیجہ نکالا کہ پاکستان سودہ بازی کے لیے تیار ہے اور اگر امریکہ پاکستان کی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے تیار ہو جائے تو پاکستان طالبان اور القاعدہ کے بارے میں امریکہ کا مددگار ہوگا۔ جنرل ٹامی فرینک نے اس وقت کوئی وعدہ نہیں کیا لیکن 11/9 کے بعد جنرل مشرف سے امریکی سفیر ونڈی چیمبرلین کے ذریعے پیغام رسانی کی۔ جنرل ٹامی فرینک اس ملاقات کے بارے میں مدافعانہ (شرمساری؟) رویے کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کو علم تھا کہ پاکستان میں سیاسی اور انسانی حقوق کی پاسداری نہیں ہو رہی لیکن انہوں نے یہ کہہ کر اپنے آپ کو تسلی دی کہ اس وقت امریکہ کی ضروریات اور ترجیحات مختلف ہیں۔ جنرل ٹامی فرینک کی تحریر میں ایسے واضح اشارے موجود ہیں کہ انہوں نے 11/9 کے بعد جنرل مشرف پر دباؤ ڈالا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کے بازو مروڑ نے (arm twisting ) کا کوئی موقعہ تھا تو یہی تھا۔ پاکستان کو فیصلہ کرنا ہوگا اور جلد فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ امریکہ کا دوست ہوگا یا دشمن۔ جنرل مشرف نے سفیر ونڈی چیمبرلین کے ذریعے ہی جوابی پیغام بھیجا کہ پاکستان امریکہ کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس پیغام میں یہ درخواست بھی کی گئی تھی کے اتحادی فورس میں ہندوستان کے کردار کو نمایاں نہ کیا جائے اور ہندوستان کی فوج کا کوئی عنصر بھی پاکستان کی سر زمین پر نہ آئے۔ جنرل فرینک کا کہنا ہے کہ یہ درخواست معقول تھی اس لیے وعدہ کر لیا گیا۔ جنرل فرینک کے بیان کے زیرسطور لگتا ہے کہ جنرل مشرف کو پہلے انہوں نے خود یا ونڈی چیمبرلین کے ذریعے دھمکی دی اور پھر بعد میں وائٹ ہاؤس اور سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے امریکی دباؤ کو آگے بڑھایا۔ جنرل ٹامی فرینک کا کہنا ہے کہ پاکستان نے امریکہ کی گونا گون فوجی ضرورتوں کے مدنظر 74 اڈے فراہم کیے اور ہر طرح کا تعاون کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ اگر چہ دنیا پاکستان کے افغان جنگ میں کردار سے واقف نہیں ہے لیکن جنرل مشرف نے اپنے وعدے پر پکے تھے اور پکے ہیں۔ پاکستان کی گیارھویں کور نے القاعدہ کے ان سینکڑوں دہشت گردوں کو پکڑا اور موت کے گھاٹ اتارا جو جنگ سے بھاگ رہے تھے۔ آج بھی پاکستانی فوج وزیرستان کی پہاڑیوں میں دہشت گردوں کا پیچھا کر رہی ہے جب کہ پاکستان کی سکیوریٹی فورسز شہروں میں ان کا تعاقب کر رہے ہیں۔۔۔ جب صدر بش نے کہا تھا کہ یا تو دنیا کی قومیں ہماری ساتھی ہیں یا دشمن تو پاکستان نے سن لیا تھا۔‘ جنرل ٹامی فرینک کی کتاب میں کسی ایسے راز کا انکشاف نہیں کیا جو پہلے سے میڈیا میں نہیں آئی تھی۔ ان کی کتاب سے بہت سے حقائق کی تصدیق ہوتی ہے جو کہ ایک وقت میڈیا کی من گھڑت کہانیاں لگتی تھیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||