11/9: ہائی جیکروں پر نیا تنازعہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک امریکی رکن کانگریس نے کہا کہ ایک انٹیلی جنس یونٹ نے گیارہ ستمبر کے چار ہائی جیکروں پر القاعدہ کے کارکنوں کی حیثیت سے شناخت کر لیا تھا۔ رکن کانگریس کرٹ ویلڈن کے مطابق ایف آئی اے کو مطلع کرنے سے متعلق اس یونٹ کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔ انٹیلی جنس یونٹ کی طرف سے شناخت کیا جانے والا ایک ہائی جیکر محمد عطا تھا۔ مسٹر ویلڈن بڑے بڑے بیان دینے کے لیے مشہور ہیں لیکن ان کے اس بیان کو بہت سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ نیویارک ٹائمز نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ امریکی فوج کی سپیشل آپریشن کمانڈ نے ’ایبل ڈینجر‘ نامی اس پروگرام کو خفیہ رکھا تھا۔ ایک سابق سرکاری اہلکار کے مطابق یہی ایبل ڈینجر پروگرام ہی تھا جس نے بعد میں حکومتی عہدے داروں کو القاعدہ اہداف کو حاصل کرنے کے مختلف راستے بتائے۔ نیویارک ٹائمز نے یہ بھی بتایا ہے کہ 11/9 کمشن کے ترجمان ایلون فیلزنبرگ نے تصدیق کی ہے کہ 2003 میں کمیشن کے عملے کو اس ملٹری پروگرام کے بارے میں بتایا گیا تھا۔ البتہ امریکی فوج نےاس یونٹ کے ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کوئی تصدیق نہیں کی۔ تاہم مسٹر کرٹ ویلڈن کے بیان سے امریکہ میں گیارہ ستمبر کے حملے روکنے میں سرکاری ایجنسیوں کی ناکامیوں سے متعلق ایک نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ مسٹر ویلڈن نے اپنا یہ بیان 27 جون کو کانگریس میں دیا تھا لیکن اس کا کسی نے بھی کوئی خاص نوٹس نہ لیا تھا۔ اب انہوں نے یہی بات پینسلوینیا میں اپنے انتخابی حلقے میں ایک مقامی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ انٹیلی جنس یونٹ نے چار مبینہ ہائی جیکروں کی ویزوں پر لگی تصویروں کے ساتھ ایک رپورٹ تیار کر کے سپیشل آپریشن کمانڈ کو بھجوائی تھی اور سفارش کی تھی کہ اس بارے میں ایف بی آئی کو مطلع کر دیا جائے۔ انٹیلی جنس یونٹ کی سفارش یہ کہہ کر مسترد کر دی گئی تھی کہ چاروں مبینہ شدت پسند قانونی ویزوں پر امریکہ آئے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||