سی آئی اے کو پہلے سے پتہ تھا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک نئی رپورٹ کےمطابق سی آئی اے کو گیارہ ستمبر کے حملوں سے دو سال قبل ایک ہائی جیکر کے نام اور ٹیلی فون نمبر سے آگاہ کیا گیا تھا۔ لیکن امریکی خفیہ ادارہ معاملے کی تہہ تک نہیں پہنچ سکا۔ اخبار نیو یارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک خبر میں کہا گیا ہے کہ جرمنی کے خفیہ اداروں نے پہلے ہی سی آئی اے سے کہا تھا کہ مروان الشہی نامی ایک مشتبہ شخص کا پتہ چلایا جائے۔ لیکن جرمنی کو امریکہ کی طرف سے اس حوالے سے جو جواب موصول ہوا وہ گیارہ ستمبر کے خود کش حملوں کے بعد کی تاریخ کا تھا۔ حملوں کی تحقیقات کرنے والا امریکی کمیشن اس بات کو جاننے کی کوشش کرے گا آیا سی آئی اے جرمنی سے ملنے والی اس اطلاع پر عمل کرنے سے ناکام رہا؟ مروان الشہی کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اس نے امریکی پرواز ایک سو پچھہتر کا کنٹرول اپنے ہاتھ لے لیا تھا۔ یہ جہاز بعد میں جنوبی ٹاور سے ٹکرایا تھا۔ اخبار کے مطابق جرمنی کے خفیہ ادارے کے اہلکاروں نے امریکی سی آئی اے کو مروان کا نام اور فون نمبر انیس سو ننانوے میں متحدہ عرب امارات میں دیا تھا۔ جرمنی کے پاس یہ نام اس وقت آیا جب وہاں کے خفیہ ادارے کے اہکار ایک مشتہ شخص محمد حیدر زمار کی ٹوہ میں ان کے ٹیلیفون پر کان لگائے بیٹھے تھے۔ زمار ہیمبرگ میں ایک مشتبہ اسلامی شدت پسند تھا۔ جرمنی کے خفیہ ادارے کے ایک سینئر اہلکار کے مطابق انہوں نے سی آئی اے کو اطلاع بروقت فراہم کر دی تھی لیکن سی آئی اے نے اس کا جواب خود کش حملوں کے بعد دیا۔ اخبار نے ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے لکھا ہے کہ جرمنی کی طرف سے انہیں مروان کا نام اور ایک فون نمبر دیا گیا تھا لیکن ’ہمیں کچھ ملا نہیں۔ جو فون نمبر دیا گیا تھا اس کا متحدہ عرب امارات میں اندارج نہیں تھا۔‘ ایک امریکی اہلکار نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ خفیہ اداروں کو ہر روز ہزاروں کی تعداد میں مشتبہ دہشت گردوں کے نام بھیجے جاتے ہیں اور سب کے بارے میں معلومات حاصل کرنا بہت دشوار ہوتا ہے۔ امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ اگر خفیہ ادارے کے پاس کسی مشتبہ دہشت گرد کے نام کا صرف پہلا حصہ ہو اور نام بھی عام سا ہو تو اس طرح کی اطلاع بالکل فضول ہوتی ہے۔ مراوان کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات کا رہنے والا تھا جو انیس سو چھیانوے میں جرمنی چلا گیا اور بعد میں محمد عطا کے ساتھ ایک ہی کمرے میں رہنے لگا۔ محمد عطا اس فلائٹ کے پائلٹ بتائے جاتے ہیں جو شمالی ٹاور سے جا ٹکرائی تھی۔ امریکہ میں ان واقعات کی آزادانہ انکوائری کرنے والے کمیشن کے ڈائریکٹر کہتے ہیں کہ کمیشن اس سارے معاملے کی تحقیق کر رہا ہے۔ ’ہیمبرگ کا سیل بہت اہم ہے اور ساتھ ہی مراوان کے بارے میں سی آئی اے کو بھیجی جانے والی اطلاع بھی۔ اس معاملے کی تحقیق جاری ہے لیکن ابھی نتائج کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||