| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
منگل تک مہلت ہے: وائٹ ہاؤس
واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے ملازمین کو منگل تک کی مہلت دی گئی ہے کہ وہ سی آئی اے کے ایک ایجنٹ کا نام افشا ہونے سے متعلق تمام مواد خفیہ ادارے کے حوالے کر دیں۔ صدر جارج بش کے ایک لیگل ایڈوائزر نے وائٹ ہاؤس کے تمام ملازمین سے کہا ہے کہ وہ تمام متعلقہ ای میل پیغامات، کمپیوٹر ریکارڈ، نوٹس اور ڈائری کے صفحات جمع کرا دیں۔ وزارت انصاف نے اسی قسم کا ایک حکم نامہ وزارت خارجہ اور وزارت دفاع کو بھی بھیجا ہے کیونکہ اب اس سلسلے میں کی جانے والی انکوائری کا دائرہ کار وسیع ہو گیا ہے۔ اب اس بارے میں بھی چھان بین کی جاری ہے کہ سابق امریکی سفارتکار جوزف ولسن کی بیوی کا نام کون منظر عام پر لایا ہے۔ اس سفارتکار نے دعویٰ کیا تھا کہ خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے عراق پر حملے سے پہلے غلط بیانی سے کام لیا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ بش انتظامیہ کے لئے شرمندگی کا باعث بننے والے اس دعوے کا بدلہ لینے کے لئے سفارتکار کی بیوی کا نام افشا کر دیا گیا۔ صدر بش نے اس سلسلے میں شروع کی جانے والے تحقیقات کا خیر مقدم کیا ہے اور جمعہ کے روز ان کے ترجمان نے کہا کہ وہ معاملے کی تہہ تک پہنچنا چاہتے ہیں اور یہ جتنا جلدی ہو اتنا ہی بہتر ہے۔ امریکہ میں کسی خفیہ ادارے کے لئے کام کرنے والے ایجنٹ کا نام افشا کرنا ایک جرم ہیں اور اس پر دس سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایسا بہت کم دیکھنے میں آیا ہے کہ امریکی محکمہ انصاف خفیہ معلومات کے افشا ہونے کی مکمل تحقیقات کر رہا ہے۔ یاد رہے کہ یہ تحقیقات ویلیری پلیم کا نام سامنے آنے سے متعلق ہیں جوکہ بغداد میں امریکہ کے سابق خصوصی نمائندے جوزف ولسن کی اہلیہ ہیں۔ عراق جنگ سے قبل جوزف ولسن کو امریکی حکام نے افریقی ریاست نائیجر میں تعینات کیا تھا تاکہ یہ معلوم کیا جائے کہ آیا عراق کے وہاں سے جوہری مادہ خریدنے کا دعویٰ درست ہے یا نہیں۔ انہوں نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ یہ الزام درست نہیں ہے۔ بعد میں ایک امریکی اخبار میں چھپنے والے اپنے ایک مضمون میں انہوں نے یہ سوال اٹھا تھا کہ ان کی رپورٹ کو کیوں نظر انداز کیا گیا۔ واہٹ ہاؤس نے بعد میں اپنی غلطی تسلیم کرلی کہ اس الزام کا ذکر کرنا درست نہیں تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||