سعودیہ: القاعدہ کے نئے سربراہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اطلاعات کے مطابق سعودی عرب پولیس کے ایک سابق افسر سعودی عرب میں القاعدہ کے سربراہ بن گئے ہیں۔ جمعہ کو پولیس کے ساتھ مقابلے میں مارے گئے سعودی عرب میں القاعدہ کے سربراہ ابدل عزیز ال مقرن کی جگہ اب سابق پولیس افسر صالح الاوفی نے لے لی ہے۔ امریکی یرغمالی پال جانسن کے قتل کے بعد سعودی عرب کی سکیورٹی فورسز نے القاعدہ کے ارکان کے خلاف اپنی مہم اور تیز کر دی ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ القاعدہ کے سعودی عرب میں نئے سربراہ ایک خطرناک دشمن ثابت ہونگے۔ 1985 سے صالح ال اوفی القاعدہ کے بنیادی ارکان میں شمار ہوتے ہیں۔ ایک اسلامی ویب سائیٹ کے مطابق القاعدہ کے حامی پولیس والوں نے امریکی یرغمالی پال جانسن کے اغواہ کے دوران القاعدہ کے ارکان کو وردیاں اور گاڑیاں فراہم کی تھیں۔ ویب سائیٹ صوت الجہاد پر شائع ایک تحریر کے مطابق شدت پسندوں نے 12 جون کو جانسن کو ریاض کے باہر ایک نقلی پولیس چوکی پر روکا اور انہیں اغوا کر لیا۔ ویب سائیٹ نے ان سب لوگوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے حفاظتی افواج کا حصہ ہوتے ہوئے بھی اس عمل میں القاعدہ کی مدد کی اور اسے ضروری سامان فراہم کیا۔ اطلاعات کے مطابق اوفی مدینہ میں پیدا ہوئے اور سعودی پولیس اور جیل کے محکمے میں کام کرنے کے بعد لگ بھگ 1990 کے قریب افغانستان اور بوسنیا جا کر وہاں جہادیوں میں شامل ہو گئے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ 1995 میں زخمی ہو کر سعودی عرب لوٹ آئے۔ اب تک وہ القاعدہ میں نئے ارکان کی بھرتی اور تربیت، اور لوجسٹکس کے لیے ذمہ دار تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||