’حکومت کی بنیاد قومی وحدت پر ہو‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کے وزیر خارجہ جیک سٹرا نےعراقی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ فرقہ وارانہ تفرقات کو پسِ پشت ڈال کر قومی وحدت کی بنیاد پر حکومت تشکیل دیں۔ عراق کے اچانک دورے پر بغداد پہنچنے کے بعد ان کا کہنا تھا کہ ’دسمبر کے انتخابات سے یہ واضح ہو گیا کہ کوئی جماعت یا کوئی مذہبی گروہ مکمل کامیابی حاصل نہیں کر سکا‘۔ جیک سٹرا کا گزشتہ ہفتوں میں عراق کا یہ دوسرا دورہ ہے اور وہ نئی حکومت کے قیام کے سلسلے میں ہونے والی تاخیر پر عراق کے سیاسی قائدین سے مذاکرات کرنے کے لیے بغداد آئے ہیں۔ حکومت سازی کے سلسلے میں شیعہ، سنی اور کرد رہنماؤں میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔ شیعہ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انتخابات میں 275 میں سے 130 نشستیں جیتنے کے بعد انہیں اہم عہدے ملنے چاہیئیں جبکہ سنی عرب رہنما بھی اہم عہدوں کے طلبگار ہیں تاکہ عراق کی وزارتِ داخلہ میں شیعوں کا اثرو نفوذ کم کیا جا سکے۔ یاد رہے کہ امریکہ بھی کہہ چکا ہے کہ اگر عراقی حکومت میں کٹّر مذہبی رہنما شامل ہوئے تو وہ عراق کی امداد میں کمی کر دے گا۔ نامہ نگاروں کے مطابق عراق میں نئی حکومت کے قیام کے لیے سنجیدہ مذاکرات ابھی شروع ہونے ہیں اور حکومتی عہدوں کے لیے فرقہ وارانہ بنیادوں پر نامزدگیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے تنازعے کی وجہ سے یہ مذاکرات مہینوں چل سکتے ہیں۔ وزیر خارجہ جیک سٹرا کو عراق کے دورے کےدوران برطانوی فوجی کمانڈر جنوبی عراق کی صورتحال سے آگاہ کریں گے جہاں برطانوی فوج تعینات ہے۔ جنوبی عراق میں دو علاقائی کونسلوں نے برطانوی فوجیوں کی عراقی شہریوں کے ساتھ ’بدسلوکی‘ کی فلم منظر عام پر آنے کے بعد ان کے ساتھ تعاون روک دیا ہے۔ اس فلم کے سلسلے میں تین فوجیوں اور چار عراقی نوجوانوں سے پوچھ گچھ کی جا چکی ہے۔ یہ فلم سن دو ہزار چار میں جنوبی عراق میں ہونے والے ایک مظاہرے کے دوران بنائی گئی تھی۔
دریں اثنا امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس مشرق وسطیٰ کےپانچ روزہ دورے پر مصر پہنچ رہی ہیں۔ نامہ نگاروں کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مصر اور سعودی عرب سے حماس کے ساتھ سخت موقف اختیار کرنے کی درخواست کریں گی۔ وہ سعودی عرب سے عراق میں اپنی پالیسی کے لیے حمایت کی درخواست بھی کریں گی۔ مشرق وسطیٰ کے دورے پر روانہ ہونے سے پہلے امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران خطے میں عدم استحکام کا باعث بن رہا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ ایسا علاقے میں غیر ملکی افواج کی موجودگی سے ہو رہا ہے۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ڈاکٹر رائس چاہتی ہیں کہ امریکہ کے اتحادی ایران کی حمایت کرنے والے تشدد پسند گروہوں کے خلاف کریں۔ | اسی بارے میں برطانوی فوج سے تعلقات منقطع14 February, 2006 | آس پاس برطانیہ جنوبی عراق سے فوج نکالے:ایران17 February, 2006 | آس پاس اسماعیل ہنیہ وزیر اعظم کے امیدوار20 February, 2006 | آس پاس عراق میں تازہ حملے، 23 ہلاک20 February, 2006 | آس پاس رائس مشرق وسطی کے دورے پر21 February, 2006 | آس پاس ’تحقیق ہر صورت جاری رہےگی‘20 February, 2006 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||