BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 23 February, 2006, 03:56 GMT 08:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان تحمل کا مظاہرہ کرے: بش

صدر بش ایشیا سوسائٹی کی تقریب میں
صدر بش اگلے ہفتے پاکستان اور ہندوستان کا اپنا پہلا دورہ کرنے والے ہیں
ہندوستان اور پاکستان کا دورہ شروع کرنے سے کچھ روز قبل امریکہ کے صدر جارج بش نے بھارت کو یاد دلایا ہے کہ اسے امریکی جوہری ٹیکنالوجی حاصل کرنے سے پہلے اپنے فوجی اور غیر فوجی جوہری ٹھکانوں کی نشاندہی کروانا ہو گی۔

بدھ کے روز ایشیا سوسائٹی میں بات کرتے ہوئے امریکی صدر جارج بش نے بھارت اور امریکہ کے درمیان پچھلے سال جولائی میں ہونے والے معاہدے کے بارے میں کہا کہ اسے عمل میں لانا دونوں ملکوں کے لیے آسان نہیں ہو گا اور دونوں ہی ملکوں کو صبر سے کام لینا ہو گا۔

پاکستان اور بھارت دونوں ملکوں کو مخاطب کرتے ہوئے جارج بش نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ اچھے روابط رکھتے ہوئے پاکستان اور بھارت دونوں کو ہی اس کا فائدہ ہو گا۔

پاکستان کے بارے میں بات کرتے ہوئے جارج بش نے کہا کہ جمہوریت کی راہ میں ابھی پاکستان کو بہت لمبا سفر طے کرنا ہے۔ انہوں نے پاکستان کو یہ بھی یاد دلایا کہ اگلے سال وہاں ہونے والے عام انتخابات شفاف ہونے چاہئیں کیونکہ جمہوریت کے نکتۂ نظر سے یہ انتخابات پاکستان کے لیے ایک اہم آزمائش ہیں۔

پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے صدر بش نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں امریکہ کے ساتھ سب سے آگے ہے۔

صدر بش نے کہا کہ امریکہ پاکستان میں اقتصادی ترقی اور خوشحالی کا حامی ہے اور اس کے ساتھ تعاون کر رہا ہے کیونکہ اس سے اسلامی شدت پسند طاقتوں کو بھی روکنے میں مدد ملے گی۔

صدر بش نے پاکستان میں تعلیمی اداروں کو بہتر بنانے کے لیے بھی امریکہ کی مدد کا ذکر کیا۔

بھارت کے ساتھ پاکستان کے بہتر ہوتے تعلقات کے بارے میں بھی بش نے اطمینان کا اظہار کیا اور دونوں ممالک پر کشمیر کے مسئلے پر بات چیت اور ایسے پرامن حل کی تلاش پر زور دیا جو دونوں ملکوں کو قبول ہو۔

دریں اثناء خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر بش نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ امریکہ اور ہندوستان کے درمیان جوہری تعاون پر صبر و تحمل کا مظاہرہ کرے تاہم انہوں نے اس بات کی تصدیق یا تردید نہیں کی کہ امریکہ مستقبل میں پاکستان کے ساتھ بھی ایسا معاہدہ کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک آغاز ہے ایک لمبے سفر کا ’تاکہ بڑی اقتصادی طاقت والے ممالک کی حوصلہ افزائی کی جائے کہ وہ فوسل فیول یعنی تیل کے استعمال پر انحصار کم کریں‘۔

صدر بش اگلے ہفتے دونوں ممالک کا اپنا پہلا دورہ کرنے والے ہیں۔

وی پی سنگھ کی مصوریدلی ڈائری
مصوری، شاہی شادی اور صدر بش کے کھانے
اسی بارے میں
کشمیر:’امریکہ مدد کرے‘
13 February, 2006 | پاکستان
شوکت عزیز، رمز فیلڈ ملاقات
24 January, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد