BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 13 February, 2006, 16:50 GMT 21:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر:’امریکہ مدد کرے‘

جنرل مشرف
صدر جنرل مشرف نے صدر بس کے بر صغیر کے دورے سے پہلے یہ بات کی ہے
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے پیر کے روز امریکہ سے اپیل کی کہ وہ بھارت کے ساتھ تنازعہ کشمیر حل کرانے کے لیے مدد کرے۔

انہوں نے ایک امریکی فاؤنڈیشن کے زیرانتظام امریکہ اور ایشیا کے صحافیوں کے دورہ پاکستان کے دوران ملاقات میں کہا کہ اب وقت آچکا ہے کہ امریکہ دنیا کے اکیلے ’سپر پاور‘ کی حیثیت میں اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے کشمیر کا تنازعہ حل کرانے میں مدد فراہم کرے۔

یہ اپیل انہوں نے اس وقت کی ہے جب آئندہ ماہ امریکی صدر جارج ڈبلیو بش پاکستان اور بھارت کا دورہ کرنے والے ہیں۔ یہ صدر بش کے دو بار اقتدار میں رہنے کے دوران برصغیر کا کا پہلا دورہ ہوگا۔

صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ ’صدر بش یہاں آرہے ہیں اور مجھے امید ہے کہ وہ حقائق کو سمجھیں گے۔ یہ مسئلہ اب حل ہوسکتا ہے اور امریکہ اس کے لیے کوشش کرے۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت دونوں مسئلہ کشمیر کا حل چاہتے ہیں اور ایسے میں امریکہ ثالثی کرتے ہوئے حل نکالنے میں مدد فراہم کرے۔ صدر نے کہا کہ دنیا کے تمام تنازعے حل کرانا ان کی ( امریکہ) کی ذمہ داری ہے اور بدقسمتی سے اس وقت اکثر بڑے تنازعے اسلامی ممالک کے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے پر انہیں تشویش ہے لیکن انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی عوام چاہتی ہے کہ مسئلہ حل ہو۔

صدر نے اس موقع پر باجوڑ واقعے کا ذکر کیا جس میں امریکی فوج کے حملے میں پانچ غیر ملکیوں سمیت مقامی لوگ، بچے اور خواتین بھی مارے گئے تھے۔

صدر نے کہا کہ یہ پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری کا معاملہ تھا لیکن انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود بھی امریکہ کے ساتھ پاکستان کے اچھے تعلقات ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وہ مکمل تعاون کریں گے۔

صدر نے اس موقع پر ایران سے گیس پائپ لائن کے بارے میں کہا کہ پاکستان کو توانائی کی ضرورت ہے اور ایران گیس بیچنا چاہتا ہے ۔ اس لیے ان کے مطابق اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔

امریکہ کی جانب سے اس مجوزہ منصوبے کی مخالفت کے سوال پر انہوں نے کہا کہ جو بھی مخالفت کرتا ہے وہ پاکستان کو معاوضہ دے تاکہ متبادل ذرائع استعمال کیے جاسکیں۔

دکھ ، سکھ ساتھ ساتھ
ایل او سی کھلنے کی خوشی، زلزلے کا دکھ
کشمیرکے مریض
ذہنی مریضوں کی تعداد میں حیران کن اضافہ۔
اسی بارے میں
پاک بھارت مذاکرات کا مستقبل
18 February, 2004 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد