کشمیر:7سالوں میں 58 ہزارذہنی مریض | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیرِ انتظام جموں کشمیر میں گزشتہ سولہ برسوں سے جاری شورش کے نتیجے میں ذہنی مریضوں کی تعداد میں حیران کن اضافہ ہوا ہے۔ سنہ 1998 تک وادی کشمیر میں رجسٹرڈ ذہنی مریضوں کی تعداد دوہزار سے بھی کم تھی جو دسمبر دو ہزار پانچ تک بڑھ کر ساٹھ ہزارتک پہنچ گئی ہے۔ ذہنی امراض میں مبتلا افراد کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کشمیر میں ان مریضوں کی آباد کاری اور گھر واپسی ایک تشویش ناک مسئلہ بنتا جارہا ہے۔ کشمیر میں ایسے مریضوں کے لیے سری نگر میں صرف ایک ہسپتال ہے جہاں سے ڈاکٹروں کے مطابق بہت سارے مریضوں کو بحالی کے مراکز میں منتقل کیا جاسکتا ہے لیکن ایسا اس لیۓ نہیں ہورہا ہے کیونکہ وادی میں کوئی ایسا مرکز نہیں ہے۔ ذہنی امراض کے ڈاکٹر ارشد حسین نے کہا کہ ریاست کی بگڑی صورت حال سے لوگ ذہنی امراض کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ڈاکٹر ارشد کے مطابق ریاست میں شورش شروع ہونے کے بعد سے ذہنی امراض میں مبتلا افراد کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور ہورہا ہے۔ ’تناؤ کے ماحول میں لوگوں پر اسکا اثر ہونا ایک فطری بات ہے۔ کشمیر کی صورتحال سے کئی مسائل پیدا ہوئے جن میں بے روزگاری ایک بڑا مسئلہ ہے ‘۔ ایسے مریضوں کی گھر واپسی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سماج کو ایسے افراد کے ساتھ زبردست جذباتی ہمدردی کا اظہار کرناہوگا۔ ’ ذہنی مریضوں کا علاج ممکن ہے ۔ ایسے لوگوں کو ہماری ہمدردی کی ضرورت ہوتی ہے‘۔ ایک اور ڈاکٹر امت وانچوں کا کہنا ہے کہ پوسٹ ٹرامیٹک سٹرس ڈس آرڈر [ پی ٹی ایس ڈی ] ایک ایسی بیماری ہے جو نارمل انسان کو ایک زبر دست تناؤ کے ماحول میں اثر انداز کرتی ہے۔ تناؤ کی صورتحال میں پی ٹی ایس ڈی زندگی کے کسی بھی شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنا شکار بناسکتی ہے۔ اس میں عمر جنس اور ذات کا کوئی امتیاز نہیں ہوتا۔ ’ کشمیر میں سترہ سے بیس فیصد کی آبادی کسی نہ کسی طرح کے ذہنی امراض میں مبتلا ہیں ‘۔ ڈاکٹر وانچو نے کہا کہ یہاں کشمیر میں ذہنی مریضوں کے لیے ایک واحد ہسپتال ہے جس پر روز بروز دباؤ شدید تر ہوتا جارہا ہے۔‘ یوروپی یونین نے ڈھائی برس کے ایک مطالعے کے بعد ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے ۔’بلا مبالغہ جموں و کشمیر کی آبادی کی ایک بڑی اکثریت نفسیاتی اور جذباتی طور پر بیمار ہے- جس کے سبب لوگوں کی تخلیقی اور پپداواری صلاحیت پر بہت برا اثر پڑ رہا ہے- اعصابی تناؤ ، گبھراہٹ، نفسیاتی اتار چڑھاؤ اور جسمانی بیماریاں عام ہو چکی ہیں۔‘ سرکردہ ادیب ارون دھتی رائے نے کشمیر کی صورتحال پر کہا تھ اکہ یہ دنیا کا ’ذہنی امراض کا سب سے بڑا اور خوبصورت مرکز ہے-‘ | اسی بارے میں بھارت: ہلاکتوں میں مزید اضافہ10 October, 2005 | انڈیا ظفر کو ہسپتال میں کوئی ملنے نہیں آیا16 October, 2005 | انڈیا بھارتی فوجی نے تین ساتھیوں کو مار ڈالا 02 October, 2005 | انڈیا کچھ کشمیری کنٹرول لائن کے پار17 November, 2005 | انڈیا کشمیر: مسلح جھڑپ، پانچ ہلاک23 November, 2005 | انڈیا ایل او سی کھلنے کی خوشی، زلزلے کا دکھ26 December, 2005 | انڈیا ’کشمیر: جرات اور نرمی کا متقاضی‘18 January, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||