BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 18 January, 2006, 17:49 GMT 22:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کشمیر: جرات اور نرمی کا متقاضی‘

پاکستان اور بھارت کے وفود
یہ جامع مذاکرات کا تیسرا دور تھا
پاکستان کے خارجہ سیکریٹری ریاض محمد خان نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے زبردست سیاسی استقلال، سنجیدگی اور موقف میں لچک پیدا کرنی ہوگي۔

دلی میں ہند پاک ’کمپوزٹ ڈائیلاگ‘ کے تیسرے مرحلے کی دو روزہ بات چیت کے بعد ریاض خان نے کہا کہ اب تک کے دو مرحلوں کے مذاکرات بہت حوصلہ افزاء اور کارآمد رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ کشمیر کے مسئلے کو حل کرنا بہت ضروری ہے اور اس کے حل کے لیے جرات اور نرمی دونوں کا مظاہرہ کرنا ہوگا‘۔

مذاکرات میں شامل دونوں وفود کے سربراہان نے بات چیت کے بعد ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔ بات چیت میں ہندوستان کے خارجہ سیکریٹری شیام سرن نے نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دو روزہ مذاکرات کامیاب رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر کے سوال پر بہت مفصل بات چیت ہوئی ہے تاہم ہندوستان اس سلسلے میں کیے گئے اقدامات کو پاکستان کی طرح محض اعتماد سازی کے اقدامات نہیں مانتا بلکہ اسے مسئلے کے حل کا بنیادی پہلو سمجھتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں شیام سرن نے کہا کہ ’پاکستان کی طرف سے کشمیر کے کچھ علاقوں کو غیر فوجی خطہ قرار دینے اور ’سیلف گورننس‘ کی تجاویز بات چیت کے دوران آئی تھیں لیکن ہندوستان کا خیال ہے کہ اس کے زیر اتظام کشمیر میں منتخب اسمبلی کی شکل میں ’سیلف گورننس‘ پہلے سے ہی موجود ہے۔ اس طرح کی ضرورت تو دراصل پاکستان کی طرف کشمیر، گلگت اور بلتستان جیسے علاقوں میں ہے‘۔

غیر فوجی خطہ بنائے جانے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ’ہم تو پورے ایل او سی کو ہی دوستی کے خطے میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ اگر دہشتگردی اور کشیدگی نہ ہو تو ایک دو علاقے نہیں پورے کشمیر میں امن و شانتی رہے گی‘۔

پاکستان کے خارجہ سیکریٹری ریاض محمد خان نے کہا کہ گزشتہ دونوں ادوار کے مذاکرات کافی اطمینان بخش رہے ہیں اور امید ظاہر کی کہ تیسرا دور مزید کار آمد ثابت ہوگا۔

دو روزہ مذاکرات میں کشمیر اور امن و سلامتی کے علاوہ سیاچن، تلبل نویگیشن پراجیکٹ، دہشتگردی اور منشیات کی سمگلنگ، تجارت اور اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے سمیت تمام آٹھ موضوعات پر بات چیت ہوئی ہے اور ان پر ماہرین کی سطح پر بات چیت کے لیے تاریخوں کا ایک مفصل خاکہ تیار کر لیا گیا ہے۔

دونو ں اہلکاروں نے اعلان کیا کہ جلد ہی پونچھ راولاکوٹ بس سروس شروع ہو جائے گی اور توقع ہے کہ مظفرآباد اور سرینگر کے درمیان امن پل جو زلزلے سے تباہ ہو گیا تھا وہ اپریل تک دوبارہ تعمیر ہو جائے گا اور اس راستے سے ٹرکوں کے ذریعے منظور شدہ اشیاء کی تجارت شروع ہو جائے گی۔

دونوں ملکوں نے اس بات سے بھی اتفاق کیا ہے کہ ایل او سی پر مزید فوجی چوکیاں نہیں تعمیرکی جائيں گی۔ جوہری معاملات پر بھی اعتماد سازی کے کئی پہلوؤں سے اتفاق کیا گیا ہے۔

شیام سرن نے بتایا کہ ممبئی اور کراچی کے قونصل خانے کا معاملہ بھی حتمی مرحلے میں ہے اور یہ قونصل خانے جلد کھولے جانے کے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

ریاض محمد خان نے اپنے دو روزہ قیام کے دوران ہندوستان کے خارجہ امور کے وزیر مملکت ای احمد سے بھی ملاقات کی۔ ریاض خان نے بعد میں وزیر اعظم منموہن سنگھ سے بھی ملاقات کی اور انہیں صدر پرویز مشرف کی طرف سے پاکستان آنے کی دعوت بھی دی۔ وزیر اعظم نے انکی دعوت قبول کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسلام آباد آنے کے نہ صرف شدید خواہاں ہیں بلکہ وہ اس دورے کو ایک جامع اور مفید دورہ بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو ’مستقل دوستی‘ کے رشتے میں بدلتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جامع مذاکرات میں تمام موضوعات پر جامع پیش رفت ہو رہی ہے لیکن کشمیر کے حل کے سوال پر دونوں فریقوں میں اختلافات برقرار ہیں۔ تاہم ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ دونوں فریقین نے اختلافات کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے اور مثبت رویہ برقرار رکھنے کا گر سیکھ لیا ہے۔

ریل گاڑیکھوکھراپار موناباؤ
تین روزہ بات چیت جمعرات سے شروع
پاک انڈیا مذاکرات
تلخ ماحول میں مثبت نتائج کے امکانات کم ہیں
اسی بارے میں
نئے فضائی رابطے ابھی نہیں
28 September, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد