نئے فضائی رابطے ابھی نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے’سول ایوی ایشن‘ حکام کے درمیان فضائی رابطے بڑھانے کے بارے میں دو روزہ بات چیت بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگئی ہے۔ تاہم بتایا گیا ہے کہ ستائیس اور اٹھائیس ستمبر کو راولپنڈی میں وزارت دفاع میں ہونے والی یہ بات چیت خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ حکام کے مطابق بات چیت پروازوں کی تعداد بڑھانے اور نئے روٹس کے بارے میں اختلاف رائے کی وجہ سے کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکی۔ بھارتی وفد کی قیادت سول ایوی ایشن کے منتظم اعلیٰ ستیندرہ سنگھ نے کی جبکہ پاکستانی وفد کی سربراہی وزارت دفاع کے ایڈیشنل سیکریٹری میجر جنرل (ریٹائرڈ) محمد اشرف نے کی۔ مذاکرات کے اختتام پر جاری کردہ مشترکہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ نجی فضائی کمپنیوں کو پروازیں شروع کرنے کی اجازت دینے اور ریاستی فضائی کمپنیوں کی پروازوں کی تعداد بڑھانے کے بارے میں فریقین کے درمیان تفصیلی بحث ہوئی ہے اور فریقین نے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ آئندہ ملاقات کی تاریخ اور مقام کا اعلان نہیں کیا گیا۔ دونوں ممالک میں اس وقت کراچی سے بمبئی اور لاہور سے دلی کے درمیان ریاستی فضائی کمپنیوں کی پروازیں چلتی ہیں۔ پاکستانی حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ دونوں فضائی کمپنیوں کو ایک ہفتے میں بارہ پروازیں چلانے کی اجازت ہے۔ ان کے مطابق پاکستان سے ہر ہفتے بارہ پروازیں چلتی ہیں لیکن ’انڈین ایئر لائن، کی دو پروازیں چل رہی ہیں۔ حکام کے مطابق دو روزہ بات چیت کے دوران پاکستان نے تجویز دی کہ نجی فضائی کمپنیوں کو پروازیں چلانے کی اجازت دی جائے اور بھارت کے تین مزید شہروں، حیدرآباد، چنائی اور کوچن کے نئے روٹس پر بھی پروازیں شروع کی جائیں اور ہفتے میں بارہ کے بجائے اڑتالیس پروازیں چلائی جائیں۔ بھارت نے نجی فضائی کمنیوں کی پروازیں شروع کرنے پر تو اتفاق کیا لیکن تین نئے روٹس کے بجائے فی الحال چنائی کے لیے پروازیں شروع کرنے اور پروازوں کی تعداد اڑتالیس کے بجائے پہلے مرحلے میں بیس کرنے کی تجویز پیش کی۔ بھارت کا موقف تھا کہ اگر فوری طور پر تین نئے روٹ کھلیں گے اور پاکستان کی فضائی کمپنیاں اگر ان شہروں سے مشرقِ وسطیٰ ، یورپ اور امریکہ کے لیے اگر مسافر لیں گی تو اس سے بھارت کو نقصان ہوگا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر سمیت آٹھ نکات پر جامع مذاکرات کا سلسلہ گزشتہ بیس ماہ سے جاری ہے۔ اس بات چیت کے دوران مختلف شعبوں میں تعاون وسیع کرنے اور اعتماد سازی کے اقدامات کرنے کے متعلق بھی بات چیت ہوتی رہی ہے۔ جامع مذاکرات کے دو مرحلے مکمل ہوئے ہیں اور اس میں اب تک کی پیش رفت کا جائزہ لینے اور تیسرے مرحلے کے لیے بات چیت کے نظام الوقات کی منظوری کے لیے وزراء خارجہ تین اکتوبر کو اسلام آباد میں ملاقات کریں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||