پاک بھارت فضائی رابطوں پر مذاکرات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے’سول ایوی ایشن‘ حکام کے درمیان فضائی رابطے بڑھانے کے بارے میں دو روزہ بات چیت کا پہلا دور منگل کے روز ختم ہوگیا ہے اور حتمی دور بدھ کی صبح ہوگا۔ راولپنڈی میں وزارت دفاع میں ہونے والی پہلے دن کی بات چیت کے بارے میں کوئی تفصیلات تو نہیں بتائی گئی البتہ اتنا کہا گیا ہے کہ فریقین نے ایوی ایشن کے شعبے میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے مختلف معاملات کا جائزہ لیا۔ سرکاری بیان کے مطابق بات چیت دوستانہ ماحول میں ہوئی ۔ بھارتی وفد کی قیادت ڈائریکٹر جنرل سول ایوی ایشن، ستیندرہ سنگھ نے کی جبکہ پاکستانی وفد کی سربراہی وزارت دفاع کے ایڈیشنل سیکریٹری ریٹائرڈ میجر جنرل محمد اشرف نے کی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نجی ایئر لائنز کو پروازیں شروع کرنے کی اجازت دینے، مختلف شہروں کے درمیان پروازیں شروع کرنے اور موجودہ شہروں کے درمیان جاری پروازوں کی تعداد بڑھانے سمیت مختلف معاملات پر بات چیت ہوئی ہے۔ دونوں ممالک میں اس وقت کراچی سے بمبئی اور لاہور سے دلی کے درمیان ریاستی فضائی کمپنیوں کی پروازیں چلتی ہیں۔ ایک رائے یہ بھی آتی رہی ہے کہ حیدرآباد سے چنائے تک فضائی سروس شروع کی جائے۔ اس موضوع پر دونوں ممالک کے وفود پہلے بھی بات چیت کرتے رہے ہیں اور فریقین اب تک کی بات چیت میں خاصی پیش رفت ہونے اور کئی نکات پر اتفاق ہونے کی بات بھی کرتے رہے ہیں۔ ستائیس ستمبر سے شروع ہونے والے دور کے بارے میں خیال ہے کہ دونوں ممالک کسی نتیجے پر پہنچیں گے اور امکان ہے کہ اس ضمن میں کوئی معاہدہ بھی ہوجائے گا۔ واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر سمیت آٹھ نکات پر جامع مزاکرات کا سلسلہ گزشتہ بیس ماہ سے جاری ہے۔ جامع مزاکرات کے دو مرحلے مکمل ہوئے ہیں اور اس میں اب تک کی پیش رفت کا جائزہ لینے اور تیسرے مرحلے کے لیے بات چیت کے شیڈول کی منظوری کے لیے وزراء خارجہ تین اکتوبر کو اسلام آباد میں ملاقات کریں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||