گیس پائپ لائن پر مذاکرات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے مشترکہ ورکنگ گروپ نے ایران - پاکستان - بھارت گیس پائپ لائن کے بارے میں دو روزہ بات چیت کے بعد کہا ہے کہ اس پائپ لائن پر تعمیراتی کام اٹھارہ ماہ بعد شروع کر دیا جائے گا۔ دونوں ممالک کی وزارت تیل کے سیکریٹریوں کے مطابق اس بات چیت میں پائپ لائن منصوبے کے مختلف پہلوؤں پر ٹھوس پیش رفت ہوئی ہے۔ اسلام آباد میں اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دونوں ممالک کے حکام نے کہا ہے کہ اس بات چیت میں ترکمانستان - افغانستان -پاکستان - بھارت اور قطر - پاکستان - بھارت گیس پائپ لائنوں کے بارے میں بھی بات کی گئی۔ پاکستان کی وزارت تیل کے سیکریٹری احمد وقار نے کہا کہ اس بات چیت میں اس پائپ لائن کی ٹرانزٹ فیس، سکیورٹی، تکنیکی و قانونی نکات اور مالی مسائل پر کھل کر بات ہوئی۔ بھارت کی وزارت تیل کے سیکریٹری سشیل چند تریپاٹھی کے مطابق اس پائپ لائن پر تعمیراتی کام سن دو ہزار سات کے وسط میں شروع ہو گا اور انہیں امید ہے کہ یہ پائپ لائن سن دو ہزار دس تک بچھ جائے گی۔ چھ سے سات ارب ڈالر کی رقم سے بننے والی اس پائپ لائن کے لیے دونوں ممالک نے مالی مشاورت کار مقرر کر دیے ہیں جو اگلے نو ماہ میں اس منصوبے کی ابتدائی مطالعاتی رپورٹ تیار کریں گے۔ پاکستان کے وزیر تیل امان اللہ خان جدون اگلے ماہ بھارت کا دورہ کریں گے جبکہ بھارتی وزیر تیل مانی شنکر آئر دسمبر میں پاکستان آئیں گے۔ حکام کے مطابق وہ چاہتے ہیں کہ اس منصوبے پر پاکستان، بھارت اور ایران کے درمیان مشاورت اس برس دسمبر تک مکمل ہو جائے اور اسی ماہ پائپ لائن بچھانے کے لیے با ضابطہ سہ فریقی معاہدہ بھی طے پا جائے۔ اس مجوزہ پائپ لائن سے ہرروز تقریبًا ایک سو پچاس ملین کیوبک میٹرگیس کی سپلائی ممکن ہوسکے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسکی آمد سے بھارت اور پاکستان میں ایندھن کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد ملےگی۔ دونوں ممالک کے حکام کے مطابق دو ہزار دس کے بعد پاکستان اور بھارت کو بیرونی ذرائع سے گیس حاصل کرنے پر انحصار کرنا ہو گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||