قدرتی گیس: بھارت، ایران معاہدہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت نے قدرتی گیس کی فراہمی کے لیے ایران کے ساتھ کئی ارب ڈالر کا باضابطہ معاہدہ کر لیا ہے۔ معاہدے کے مطابق بھارت ایران سے ہر سال تقریباً پانچ ملین ٹن گیس پچیس سال تک درآمد کرے گا۔ یہ سپلائی سن 2009 سے شروع ہوگی۔ دونوں ملکوں نے دو ہزار چھ سو کلومیٹر لمبی پائپ لائن بچھانے پر بھی تبادلۂ خیال کیا جو پاکستان کے علاقے سے گزرے گی۔ ایک اعلیٰ ایرانی افسر نے کہا کہ پائپ لائن کے بارے میں، جس کے لۓ پاکستان کی اجازت درکار ہے، باضابطہ اعلان اس مہینے کے آخر میں کیا جائے گا۔ پاکستان کے وزیر اعظم شوکت عزیز پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ پائپ لائن کا منصوبہ بھارت کے ساتھ پائیدار تعلقات میں اضافہ کرے گا۔ تاہم کہا جاتا ہے کہ کہ امریکہ پائپ لائن اور ایران سے گیس کی خریداری سے ناخوش ہے اور امریکیوں کا کہنا ہے کہ ان کی کانگریس کا منظور کردہ ایک قانون ہے جو کہ لیبیا اورایران پر پابندیاں لگانے کا قانون کہلاتا ہے۔ اس قانون کے مطابق جو کوئی بھی ایران کے گیس اور پٹرول سیکٹر میں چالیس ملین ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کرے گا اس پر معاشی پابندیاں لگانا لازم ہوگا۔ صرف امریکی صدر ہی ان پابندیوں سے کسی کو مستثنی قرار دے سکتا ہے۔ امریکی وزیرخارجہ کونڈولیزا رائس سے ملاقات سے پیشتر پاکستانی سفارت کاروں اس قانون کے حوالے سے جو دلیل دے رہے تھے اس کے مطابق پاکستان ایران میں سرمایہ کاری نہیں کر رہا بلکہ وہ ایران کے بارڈر سے گیس خرید رہا ہے اور پاکستان میں اس سلسلے میں جو سرمایہ کاری ہوگی اس کا ایران سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ تاہم کہا جاتا ہے کہ امریکہ نے اس دلیل ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||