’پائپ لائن میں سب کا فائدہ ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ بھارت ، پاکستان اور ایران کے درمیان گیس لائن ایک اہم منصوبہ ہے اور یہ تینوں ممالک کے فائدے میں ہے۔ جنرل مشرف نے یہ بات بھارت کے وزیر تیل منی شنکر آئر سے ملاقات کے دوران کہی۔ اس ملاقات میں پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری اور وزیر تیل امان اللہ خان جدون بھی شریک تھے۔ جنرل مشرف نے کہا کہ اس سلسلے میں جتنی جلدی انتظامات ہوجائیں وہ اچھا ہے۔ اس سے پہلے پاکستان اور بھارت نے ایران-پاکستان-بھارت گیس پائپ لائن پر مشاورت کی رفتار تیز کرنے پر اتفاق کرتے ہوئے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ بنانے کا اعلان کیا ہے جو اپنے کام کی رپورٹ دونوں ممالک کے وزراءِ تیل کو دے گا۔ دونوں ممالک کے درمیان گیس پائپ لائن کے بارے میں مذاکرات کے اختتام پر جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک نے تمام مجوزہ گیس پائپ لائن منصوبوں پر اعلی ترجیحی بنیادوں کے تحت مشاورت کو مکمل کیا جائے گا۔ بھارت کے وزیر تیل مانی شنکر آئر نے ان مذاکرات کے اختتام پر صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کی جس کے بعد انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ان کے خیال میں ایران-پاکستان-بھارت گیس پائپ لائن سب سے پہلے شروع ہو گی اور اس کے بعد دو اور مجوزہ گیس پائپ لائنز جن میں ترکمانستان-افغانستان-پاکستان-بھارت اور قطر-پاکستان-بھارت گیس پائپ لائنیں شروع ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا دورہ پاکستان ان کی لامحدود پر امیدی سے بھی زیادہ کامیاب رہا۔ پاکستان اور بھارت نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ دونوں ممالک کے وزرا تیل نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایران-پاکستان-بھارت گیس پائپ لائن دونوں ممالک کی گیس کی ضروریات کو پورا کرنے میں نہایت ہی اہم ثابت ہو گی۔ پاکستان اور بھارت نے اس پائپ لائن کے بارے میں تکنیکی، معاشی،کمرشل،قانونی اور دیگر سطح پر معلومات کے تبادلے پر اتفاق کیا۔ ترکمانستان-افغانستان-پاکستان مجوزہ گیس پائپ لائن کے بارے میں بھارت کی اس درخواست کو پاکستان نے قبول کر لیا ہے جس میں بھارت نے اس گیس پائپ لائن میں اپنی دلچسپی ظاہر کی اور اس پائپ لائن کے بارے میں اگلے ماہ ترکمانستان میں ہونے والے سہ فریقی مذاکرات میں شمولیت کے لئے کہا ہے۔ بھارت نے قطر سے پاکستان کے ذریعے گیس پائپ لائن پر بھی دلچسپی ظاہر کی۔ پاکستان کے وزیر تیل امان اللہ خان جدون اس سال اگست میں بھارت کا دورہ کریں گے جہاں وہ بھارتی وزیر تیل سمیت اعلی بھارتی حکام سے ملاقات کریں گے۔ بھارتی وزیر تیل مانی شنکر کے مطابق پاکستان اور بھارت کی معیشت جس رفتار سے ترقی کر رہی ہے اس اعتبار سے دونوں ممالک کو معیشت کی شرح نمو کو برقرار رکھنے کے لئے بیرونی ذرایع سے گیس حاصل کرنے کی ضرورت ہو گی۔ انہوں نے ایران-پاکستان-بھارت گیس پائپ لائن پر امریکہ کے اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت اس بارے میں کسی کے دباؤ میں نہیں آئیں گے۔ بھارتی وزیر تیل اس سال نومبر میں پھر پاکستان آییں گے۔ انہوں نے ایران-پاکستان-بھارت گیس پائپ لائن کی حفاظت کے بارے میں بھارتی تحفظات کے حوالے سے کہا کہ پاکستانی اور بھارتی حکام اس معاملے پر مشاورت کرتے رہیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||