گیس لائن مذاکرات، پہلا باضابطہ دور | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے درمیان ایران پاکستان اور بھارت مجوزہ گیس پائپ لائن پر با ضابطہ مذاکرات کا پہلا دور اتوار کو اسلام آباد میں ہوا۔ ان مذاکرات کا آغاز پاکستان کے وزیر تیل امان اللہ خان جدون اور ان کے بھارتی ہم منصب مانی شنکر آئر کے درمیان بالمشافہ ملاقات سے ہوا جس میں تین روزہ بات چیت کا طریقۂ کار وضع کیا گیا۔ چھبیس سو کلومیٹر لمبی اس مجوزہ گیس پایپ لائن پر اب تک بھارت پاکستان سے بات چیت پرگریزاں تھا۔ اس پائپ لائن کا سات سو ساٹھ کلومیٹر حصہ پاکستان سے گزرنا ہے جس پر بھارت کچھ تحفظات کا اظہار کرتا ہے۔ بھارت نے اس پائپ لائن پر ابھی تک صرف ایران سے بات چیت کی تھی جس میں یہ شرط بھی شامل ہے کہ ایران اس بات کو یقینی بنائے گا کہ پاکستان اس پائپ لائن کے ذریعے کسی بھی اختلافات کی صورت میں بھارت کو گیس کی فراہمی منقطع نہ کرے۔ تاہم اب پاکستان اور بھارت کے درمیان بہتر ہوتے ہوئے تعلقات کے بعد دونوں ممالک نے اس گیس پائپ لائن پر خود بات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسلام آباد میں مذاکرات کے پہلے دور کے اختتام پر بھارت کے وزیر تیل مانی شنکر آئر نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ دونوں ممالک اس بات چیت کے بعد ایک مشترکہ بیان جاری کریں گے۔انہوں نے کہا وہ اور ان کے پاکستانی ہم منصب اس بات پر متفق ہیں کہ سستی گیس اور تیل کا حصول دونوں ممالک کی ضرورت ہے۔ بھارتی حکام نے پاکستانی وزیر تیل اور دیگر حکام کو بھارت اور ایران کے درمیان اب تک ہونے والی تکنیکی سطح پر بات چیت کے بارے میں ایک تفصیلی بریفنگ دی۔ کل پاکستانی حکام بھارتی وفد کو اپنے موقف کے بارے میں بریفنگ دیں گے۔ بھارتی وزیر تیل کل پاکستان کے وزیر اعظم شوکت عزیز اور منگل کو صدر جنرل پرویز مشرف سے بھی ملاقات کریں گے۔ بھارتی وزیر تیل کے مطابق انہوں نے پاکستان سے بھارت کو گیس کی فراہمی میں بھی دلچسپی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے ان کی یہ درخواست قبول کر لی اور اگلے ماہ ترکمانستان میں ہونے والے سہ فریقی وزارتی اجلاس میں بھارت کو بھی شمولیت کا اشارہ دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||