سر کریک: پاک بھارت مذاکرات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے درمیان ’سرکریک‘ کی سمندری کھاڑی کے تنازعے کے حل کے لیے دو روزہ مزاکرات کا پہلا دور سنیچر کے روز شروع ہوگیا ہے۔ دونوں ممالک کے سرویئر جنرل کی سربراہی میں وفود بات چیت کر رہے ہیں اور اتوار کے روز حتمی دور کے بعد مشترکہ بیان بھی جاری کیا جائے گا۔ سیاچین گلیشیر اور سرکریک کے متنازعہ معاملات پر بات چیت کے لیے بھارت کا وفد پچیس مئی کی شب پاکستان پہنچا تھا۔ سیاچین کے بارے میں دو روزہ مزاکرات میں جو جمعہ کے روز اختتام پذیر ہوئے تھے کوئی بڑی پیش رفت تو نہیں ہوسکتی البتہ دونوں ممالک نے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ سیاچین کی نسبت ماضی میں دونوں ممالک کے درمیان سرکریک کے بارے میں خاصی پیش رفت دیکھی گئی ہے اور سنیچر سے شروع ہونے والے مزاکرات میں بھی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ شاید مزید پیش رفت ہوگی۔ دو روزہ مزاکرات کے پہلے دن دونوں ممالک کے نمائندے گزشتہ جنوری میں کیے گئے مشترکہ سروے کے تناظر میں تبادلہ خیال کریں گے۔ سرکریک کے علاقے میں سرحدی برجیاں لگانے کے لیے دونوں ممالک نے اس سال جنوری کے پہلے ہفتے میں ایک مشترکہ سروے کیا تھا جس کو مقررہ وقت سے پہلے ہی مکمل کر لیا گیا تھا۔ سرکریک کا علاقہ بھارتی علاقے رن آف کچھ سے پاکستان کے صوبہ سندھ تک پھیلا ہوا ہے اور اس کی لمبائی ساٹھ میل ہے۔ اس علاقے کا تنازعہ 1960 کی دہائی میں سامنے آیا۔ 1969 سے اب تک اس مسئلے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت کے چھ دور ہوئے ہیں مگر اس علاقے کی ملکیت کا تنازعہ حل نہیں ہو سکا۔ کچھ دفاعی مبصرین کی رائے ہے کہ سر کریک کی دفاعی اعتبار سے اہمیت اپنی جگہ لیکن تنازعے کی وجہ اس علاقے میں پا ئے جانے والے تیل اور گیس کے ذخائر بھی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||