گیس پائپ لائن پر پاک بھارت اتفاق | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت بیرونی ذرائع سے گیس کے حصول کے لئے مشترکہ طور پر کام کرنے پر متفق ہو گئے ہیں اور دونوں ممالک اگلے چھے ماہ میں ایران ، پاکستان، بھارت گیس پائپ لائن کے منصوبے پر عملی کام شروع کر دیں گے۔ اس کے علاوہ ترکمانستان، افغانستان، پاکستان ، بھارت اور قطر، پاکستان، بھارت گیس پائپ لائن سمیت تمام مجوزہ پائپ لائنوں کے بارے میں بھی بات چیت مکمل کرلی جائے گی ۔ یہ بات پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے بھارتی وزیر تیل منی شنکر آئر نے پاکستان کے وزیر اعظم شوکت عزیز سے اسلام آباد میں ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کہی۔ منی شنکر آئر نے کہا کہ اس سلسلے میں دونوں ممالک نے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ بھی تشکیل دیا ہے جو اگلے ماہ سے ان معاملات پر بات شروع کر دے گا۔ اس ورکنگ گروپ کی صدارت دونوں ممالک کے سیکریٹری تیل کریں گے۔ پاکستان کے وزیر تیل امان اللہ خان جدون اس سال اگست میں بھارت کا دورہ کریں گے جہاں وہ بھارتی وزیر تیل سمیت اعلی بھارتی حکام سے ملاقات کریں گے۔ مانی شنکر کے مطابق پاکستان کے ذریعے بھارت تک گیس پائپ لائن اگر ایک حقیقت نہیں تو کم از کم ایک یقینی بات ضرور بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ایران کے ساتھ پائپ لائن کے بارے میں گذشتہ چھ ماہ میں تکنیکی سطح اور وزارتی سطح پر کئی مرتبہ مذاکرات کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکام نے انہیں بتایا کہ اب پاکستان بھی ایران کے ساتھ اس پائپ لائن کے بارے میں وزارتی اور تکنیکی سطح پر مسلسل ملاقاتیں کرے گا تاکہ اس گیس پائپ لائن کو چھ ماہ کے اندر بات چیت کے مقام سے عملی اقدامات کی سطح تک لے جایا جا سکے۔ بھارتی وزیر تیل کا کہنا تھا کہ انہوں نے ترکمانستان-افغانستان-پاکستان مجوزہ گیس پائپ لائن کے بارے میں پاکستان سے اس پائپ لائن کے ذریعے بھارت کو گیس کی فراہمی میں بھی دلچسپی ظاہر کی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے ان کی یہ درخواست قبول کر لی اور اگلے ماہ ترکمانستان میں ہونے والے سہ فریقی وزارتی اجلاس میں بھارت بھی شامل ہوگا۔ منی شنکر کے مطابق پاکستان اور بھارت کی معیشت جس رفتار سے ترقی کر رہی ہے اس اعتبار سے دونوں ممالک کو معیشت کی شرح نمو کو برقرار رکھنے کے لئے بیرونی ذرایع سے گیس حاصل کرنے کی ضرورت ہو گی۔ انہوں نے ایران-پاکستان-بھارت گیس پائپ لائن پر امریکہ کے اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت اس بارے میں کسی کے دباؤ میں نہیں آئیں گے۔ بھارتی وزیر تیل اس سال نومبر میں پھر پاکستان آئیں گے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ پاکستانی حکام نے ان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اس گیس پائپ لائن کے بارے میں بھارتی تحفظات کو دور کریں گے۔ بھارتی وزیر تیل کا کہنا ہے کہ وہ کل پاکستان کے وزیر تجارت سے ملاقات کریں گے جس میں بھارت سے پاکستان کو سستے ڈیزل کی فراہمی پر بھی بات ہو گی۔ مبصرین کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان گیس کے حصول کے لئے مشترکہ طور پر کام کرنے کے اعلان سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی نئی فضا قائم ہوگی اور بہتر ہوتے تعلقات کو مزید فروغ ملے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||