پائپ لائن منصوبے پر مذاکرات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی کابینہ نے بدھ کے روز یہ اعلان کیا ہے کہ بھارتی حکومت پانچ پڑوسی ممالک کے ساتھ گیس پائپلائن کے منصوبوں پر مذاکرات کرے گی۔ ان ممالک میں پاکستان، افغانستان، بنگلہ دیش، برما، اور ترکمانستان شامل ہیں۔ بھارتی وزیر پیٹرولیم منی شنکر ایئر نے صحافیوں کو بتایا کہ تین علیحدہ پائپلائن کے منصوبوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ایک پائپلائن ایران سے پاکستان کے ذریعے بھارت آئے گی، دوسری ترکمانستان سے پاکستان کے راستے آئے گی اور تیسری برما سے بنگلہ دیش کے راستے بھارت پہنچے گی۔ ایسی پائپ لائن بننے سے پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کو ’ٹرانِزٹ فیز‘ میں لاکھوں ڈالر کی رقم ملے گی۔ ماہرین کے مطابق بھارت میں اقتصادی ترقی اتنی ہو رہی ہے کہ سنہ دو ہزار بیس تک بھارت کی تیل اور گیس کی مانگ دوگنی ہو جانے کی توقع ہے۔ تاہم بھارت کے پاس قدرتی گیس کے وسائل کم ہیں اور اس وقت وہ اپنی گیس کی مانگ کا صرف نصف حصہ پورا کر سکتا ہے۔ اسی طرح خام تیل کی تقریباً ستر فیصد مقدار اس کو درآمد کرنا پڑتی ہے۔ حال میں بھارت نے ایران کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت وہ ایران سے لاکھوں ٹن قدرتی مائع گیس درآمد کرے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||