BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 09 February, 2005, 13:31 GMT 18:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پائپ لائن منصوبے پر مذاکرات
گیس پائپلائن
ایران سے آنے والی پائپ لائن کو پاکستان سے گزرنا ہوگا
بھارتی کابینہ نے بدھ کے روز یہ اعلان کیا ہے کہ بھارتی حکومت پانچ پڑوسی ممالک کے ساتھ گیس پائپلائن کے منصوبوں پر مذاکرات کرے گی۔

ان ممالک میں پاکستان، افغانستان، بنگلہ دیش، برما، اور ترکمانستان شامل ہیں۔

بھارتی وزیر پیٹرولیم منی شنکر ایئر نے صحافیوں کو بتایا کہ تین علیحدہ پائپلائن کے منصوبوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ایک پائپلائن ایران سے پاکستان کے ذریعے بھارت آئے گی، دوسری ترکمانستان سے پاکستان کے راستے آئے گی اور تیسری برما سے بنگلہ دیش کے راستے بھارت پہنچے گی۔

ایسی پائپ لائن بننے سے پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کو ’ٹرانِزٹ فیز‘ میں لاکھوں ڈالر کی رقم ملے گی۔

 ماہرین کے مطابق بھارت میں اقتصادی ترقی اتنی ہو رہی ہے کہ سنہ دو ہزار بیس تک بھارت کی تیل اور گیس کی مانگ دوگنی ہو جانے کی توقع ہے

ماہرین کے مطابق بھارت میں اقتصادی ترقی اتنی ہو رہی ہے کہ سنہ دو ہزار بیس تک بھارت کی تیل اور گیس کی مانگ دوگنی ہو جانے کی توقع ہے۔

تاہم بھارت کے پاس قدرتی گیس کے وسائل کم ہیں اور اس وقت وہ اپنی گیس کی مانگ کا صرف نصف حصہ پورا کر سکتا ہے۔ اسی طرح خام تیل کی تقریباً ستر فیصد مقدار اس کو درآمد کرنا پڑتی ہے۔

حال میں بھارت نے ایران کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت وہ ایران سے لاکھوں ٹن قدرتی مائع گیس درآمد کرے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد