پائپ لائن منصوبہ اہم کیوں؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور انڈیا کے درمیان ایران سے انڈیا تک گیس پائپ لائن بچھانے کے منصوبے پر اتفاق کو علاقائی سیاست اور معیشت دونوں اعتبار سے تاریخی قرار دیا جارہا ہے۔ لیکن اگر تین ملکوں کے درمیان پائپ لائن بچھانے کا یہ منصوبہ واقعی حقیقت بن گیا تو اس سے علاقائی سطح پر ایسی کیا تبدیلیاں رونما ہوسکتی ہیں اور برصغیر کی سیاست اور معیشت میں کونسی نئی جہتیں جنم لیں گی؟ ایک ایسے وقت میں جب دنیا کے اکثر علاقوں میں سیاست کا رخ توانائی کے ذرائع اور ان تک رسائی کی طرف ہے اور ہر جگہ ’پائپ لائن پالیٹیکس‘ کی بات ہورہی ہے، یہ مجوزہ منصوبہ کئی اعتبار سے برصغیر کی مجموعی خوشحالی کی کنجی ثابت ہوسکتا ہے۔
ایک طرف جہاں دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں فرنٹ سٹیٹ بننے کی بدولت پاکستان کی معیشت میں بہتری آئی ہے وہیں انڈیا کی اقتصادی ترقی اس وقت زوروں پر ہے۔ کئی اقتصادی ماہرین کا تو یہاں تک ماننا ہے کہ انڈیا کی معاشی کارکردگی اس حد تک بہتر ہوچکی ہے کہ وہ اس وقت ’ٹیک آف‘ کی سٹیج پر ہے۔ لیکن انڈیا اور پاکستان دونوں ہی ممالک کو ایک بڑے خطرے کا سامنا ہے اور وہ ہے توانائی کے ذرائع کی کمی۔ پاکستان کے انگریزی روزنامہ ڈان کے ایڈیٹر ضیا الدین کا کہنا ہےکہ ’توانائی کے ذرائع کی کمی کے باعث خاص طور پر انڈیا کی معاشی ترقی کو ایک بڑا دھچکا لگ سکتا ہے اور عالمی منڈی میں اس کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ پر فرق پڑ سکتا ہے۔ اور پاکستان کو بھی توانائی کےمحدود ذرائع کی وجہ سے بڑی مشکلات کا سامنا ہے۔‘ ضیاالدین کے خیال میں پاکستان اورانڈیا کے درمیان اس منصوبے پر اتفاق ایک تاریخی اقدام ثابت ہوسکتا ہے۔ ’اس سے ایک طرف تو انڈیا کی معیشت کو بہت زیادہ تقویت ملے گی اور دوسری طرف پاکستان کو نہ صرف اضافی گیس حاصل کرنے کی سہولت مہیا ہوگی بلکہ بغیر کسی بڑی سرمایہ کاری کے سالانہ پانچ سو سے چھ سو ملین ڈالر تک کی آمدن بھی ہوسکتی ہے جو پاکستانی معیشت کے لئے بہت اہم ہوگا۔‘ اس منصوبے سے صرف برصغیر کی معیشت پر ہی دوررس اثرات نہیں پڑیں گے بلکہ سیاسی میدان میں بھی یہ منصوبہ بہت اہم ہے۔
علاقائی سطح پر دیکھا جائے تو برصغیر میں ایران سے آنے والی گیس پائپ لائن بچھنے کے ساتھ ساتھ ایک نئی سیاسی بساط بھی بچھے گی۔ پاکستان اور انڈیا کے درمیان تعلقات میں بہتری اور اعتماد کی بحالی کا جو عمل شروع ہوا ہے ، یہ منصوبہ اس عمل کی پہلی ٹھوس حقیقت ثابت ہوسکتا ہے۔ لاہور کے ایک سیاسی مبصر اور صحافی خالد احمد کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیاء کی تاریخ میں یہ ایک تاریخی موڑ ہے جس کا رخ تو اقتصادیات کی طرف ہے لیکن اس کے سیاسی عمل میں بہت اہم اثرات مرتب ہونگے۔ ’میرے خیال میں ایسا پچھلے پچاس برس میں نہیں ہوا۔ خاص طور پر پاکستان کے لئے یہ ایک اہم موقعہ ہے کہ وہ علاقے میں اپنی ایک نئی شناخت بطور ایک ٹرانزِٹ ریاست کے بنا سکتا ہے۔‘ خالد احمد کے خیال میں پاکستان ابھی تک اپنی شناخت انڈیا کے ساتھ دشمنی کی بنیاد پر بناتا آیا ہے لیکن اب یہ صورتحال بدل سکتی ہے۔ ’جب انڈیا کی معاشی خوشحالی سے پاکستان کو فائدہ پہنچنا شروع ہوگا تو حالات میں بنیادی تبدیلی آسکتی ہے۔‘ لیکن جیسا کہ انڈیا کے وزیرِتیل منی شنکر آئر نے کہا ہے کہ یہ منصوبہ حقیقت نہیں تو یقینی ضرور بن چکا ہے ، اس وقت کچھ بھی نہیں کہا سکتا جب تک یہ واقعی ایک حقیقت نہ بن جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||