کیسپین پائپ لائن: تیل کا بہاؤ شروع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بحیرہ کیسپین سے براہِ راست بحرِ روم تک دو ارب پاؤنڈ کے اخراجات سے بچھائی جانے والی کی پائپ لائن میں تیل کا بہاؤ شروع ہو چکا ہے۔ ایک ہزار میل سے زیادہ لمبی اس پائپ لائن میں تیل بدھ کو چھوڑا گیا۔ یہ پائپ لائن آذر بائجان کی بحیرہ کیپسین پر واقع بندرگاہ باکو سے شروع ہوتی ہے اور جارجیا سے گزرتی ہوئی بحیرہ روم پر ترکی کے بندرگاہی شہر چیہان پر ختم ہوتی ہے۔ اس منصوبے پر دس سال سے زیادہ کا عرصہ صرف ہوا ہے اور اس سے دنیا میں تیل کے ایک بہت بڑے ذخیرے تک رسائی ممکن ہوئی ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل بھی تنازعات کے بغیر ممکن نہیں ہوئی اور اس میں سب سے بڑا تنازعہ ماحول پر اس پائپ لائن کے منفی اثرات کے بارے میں تھا۔ گزشتہ سنیچر کو ہی آذری حکام نے کچھ مظاہرین کو گرفتار کیا اور پیٹا اور اس کا جواز یہ دیا کے وہ مذکورہ پائپ لائین کہ بہت قریب پہنچ گئے تھے۔ بدھ کو باکو میں سنچال کے آئل ٹرمینل سے جب تیل کے بہاؤ کا آغاز کیا گیا تو اس سلسلے میں ہونے والی تقریب میں آذربائجان، قازکستان، جارجیا اور ترکی کے صدور نے شرکت کی۔ جب ان صدور نے تیل کا بہاؤ شروع کرنے والہ پہیوں کو گھمایا تو اس وقت ان کے ساتھ امریکہ کے وزیر برائے توانائی سموئل بوڈمین بھی تھے۔ اس پائپ لائن کو بچھانے کا کام ایک کنسورشیم نے کیا ہے جس میں برطانیہ کا ادارہ برٹش پیٹرولیم،بی پی بھی شامل ہے اور بی پی کی حصص تیس فی صد ہیں۔ اس کنسورشیم کے دوسرے ارکان میں آذربائجان کے سرکاری تیل کمپنی سوکار اور دوسری آٹھ کمپنیاں شامل تیل کے بہاؤ کے آغاز پر آذربائجان میں بی پی کے امور کے نگراں ڈیوڈ وڈورڈ کا کہنا تھا سابقہ سویت یونین کا حصہ رہنے والی اس ریاست سے تیل کی فراہمی اسے ایک بار پھر اُسی اہمیت کا حامل بنا دے گا جو اسے ایک صدی سہ بھی زیادہ عرصہ قبل حاصل تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||