زحل کے چاند پر تیل کا سمندر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپی خلائی جہاز ہوئیگنز زحل کے چاند ٹائٹن سے موصول ہونے والی تصویروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں تیل کا ایک سمندر نظر آ رہا ہے۔ ہوئیگنز سے بھیجی گئی بلیک اینڈ وائٹ تصویر سے ایسے لگتا ہے کہ جیسے شہر کی گندگی کو کسی میدان میں چھوڑا دیا گیا ہو۔ ایک دوسری تصویر کے مطابق ہموار سطح نظر آ رہی ہے جہاں ہر طرف بڑے بڑے بڑے پتھر نظر آرہے ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق ہوئیگنز نے جب چاند کی طرف سفر شروع کیا تو اس دوران تین سو تصویریں بھیجی ہیں۔ تصویروں کی تشریح کرتے ہوئے ایک سائنسدان نے بتایا ہے کہ اگر یہ سمندر نہیں ہے تو پھر یہ تارکول کی ایک جھیل ہے۔
ان تصویروں کو ابھی مزید صاف کیا جانا ہے جس سے سائنسدانوں کو تصویروں کی مزید تشریح کرنے میں مدد ملے گی۔ ہوئیگنز نے ٹائٹن کی سطح پر اترنے سے دو گھنٹے پہلے اس وقت سگنلز بھیجنے شروع کردیئےتھے جب وہ ٹائٹن کی فضا میں داخل ہوا تھا۔ جمعہ کی صبح ٹائٹن کی فضا میں داخل ہوا تھا جس کے بعد اس کے پیراشوٹ کھل گئے اور اس نے ٹائٹن کی فضا کے خاکے اور دیگر مشاہدات بھیجنے شروع کیے۔ زحل کے چاند کی پراسرار دنیا کی تحقیقات شاید یہ واضح کرسکیں گی کہ کرہ ارض پر زندگی کس طرح وجود میں آئی تھی۔ زحل کا چاند نارنجی رنگ کے غبار میں لپٹا ہوا ہے جس سے اس کی سطح کی خصوصیات جاننا مشکل ہے۔ ہوئیگنز کی بھیجی جانے والی معلومات سے ٹائٹن کی آب و ہوا اور کیمیاوی ساخت کے بارے میں تفصیلات سامنے آسکیں گی۔ ٹائٹن پر نائٹروجن، میتھین اور دیگر کیمیائی مواد پائے جانے کی بنیاد پر سائنسدان یہ قیاس کرتے ہیں کہ تقریباً ساڑھے چھ ارب سال پہلے ٹائیٹان کا ماحول زمین کے ماحول سے مشابہت رکھتا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||