عطارد کا خلائی مشن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی خلائی ادارے ناسا نے سورج کے سب سے نزدیک سیارے عطارد کے لیے تحقیقی مشن ’مرکری میسنجر پروب‘ کو خلاء میں بھیجنے کا منصوبہ موسم کی وجہ سے دو روز کے لیے ملتوی کر دیا ہے۔ بغیر انسان کے چلنے والے اس خلائی جہاز کو منگل کے روز خلاء میں چھوڑا جائے گا۔ اس خلائی جہاز کو امریکی ریاست کیپ کنیورنل فلوریڈا سے روانہ جائے گا اور یہ سات سال میں اپنا تحقیقاتی مشن مکمل کرئے گی۔ یہ خلائی جہاز بیس ہزار گیارہ میں عطارد کے مدار میں پہنچے گا اور اس کے گرد ایک سال تک چکر لگا کر عطارد کی فضا اور اس میں موجود مختلف گیسوں اور ان کی ساخت کے بارے میں معلومات اکھٹی کرے گا۔ یہ خلائی جہاز عطارد کی سطح اس کی ارضیاتی تاریخ، اس کے قطبین اور اس میں پائی جانے والی کشش اور مقناطیسی قوت کے بارے میں بھی اہم معلومات جمع کر کے زمین کو ارسال کرے گا۔ مشن سے وابستہ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ چار سو ستائیس ملین ڈالر کی مالیت سے خلاء میں بھیجا جانے والے یہ خلائی جہاز، عطارد کے بارے میں پائے جانے والے کئی رموز سے پردہ اٹھائے گا۔ عطارد سیارہ، زمین، مریخ اور زہرہ کی طرح پتھریلا ہے لیکن اب تک اس کے بارے میں بہت کم تحقیق کی گئی ہے۔ انیس سو تہتر میں ناسا نے عطارد کے لیے ایک خلائی جہاز بھیجا تھا جو تین مرتبہ عطارد کے قریب سے گزرا لیکن اس کے صرف پینتالیس فیصد حصے کی تصاویر لینے میں کامیاب رہا۔ عطارد کثیف ترین سیارہ ہے اور اس کا دو تہائی حصہ فولاد پر مشتمل ہے۔ تاہم ماہرین اس بات پر حیران ہیں کہ دیگر سیاروں کی نسبت عطارد پر کیوں اتنی بڑی تعداد میں فولاد کے ذخائر کیوں پائے جاتے ہیں۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ عطارد کی سطح بھی سورج سے قریب باقی سیاروں کی طرح پتھریلی تھی لیکن سورج سے چلنے والی ہؤاں کی وجہ سے وہ باقی نہ رہی۔ عطارد پر بھیجے جانے والے مشن کے سربراہ سین سولومن نے کہا ہے کہ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ سورج کے قریب گردش کرنے والے سیارے زمین، زہرہ، مریخ اور عطارد سورج سے دور سیاروں مشتری اور زحل سے اسقدر مختلف کیوں ہیں۔ خطِ استوا کے قریب عطارد کا درجہ حرارت ساڑھے چار سو سنٹی گریڈ ہوتا ہے جبکہ اس کے قطبین میں درجہ حرارت منفی ایک سو اسی درجہ تک رہتا ہے۔ خوردبینوں سے سیارے کے بارے میں اکھٹی کی گئی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے قطبین منجمند ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||