زُحل کے چاند پر آبشار کے سُر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سیارہ زحل کے سب سے بڑے چاند ٹائٹن پر سمندر کی تلاش کے لیے بھیجے جانے والے مشن سے پہلے ایک سائنسدان نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ خلاء میں آبشار کی آواز کا تاثر کیسا ہو گا۔ ساؤتھ ہیمپٹن یونیورسٹی کے پروفیسر ٹِم لیٹن نے ہیمپشائر میں ایک آبشار کو ریکارڈ کیا ہے اور مائع میتھین استعمال کرتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ اگر یہ آبشار ٹائٹن پر ہوتی تو کیسی آواز پیدا کرتی۔ سائنسی تحقیق کے مطابق اس بات کا امکان ہے کہ ماضی میں ٹائٹن کی سرزمین پر مائع ایتھین اور میتھیں کے سمندر موجود تھے۔ یورپی خلائی ایجنسی کا خلائی جہاز ہائجنز نظام شمسی کے ساڑھے چھ برس کے سفر پر بھیجا جائے گا۔ پروفیسر ٹِم لیٹن کسینی ہائجنز نامی بین الاقوامی مشن سے بہت متاثر تھے کیونکہ اس مشن کے ٹائٹن پر اترنے سے ان کا موقف درست ثابت ہو سکتا ہے۔ ہائجنز اس برس کرسمس کے روز کسینی سے جدا ہو گا اور چودہ جنوری دو ہزار پانچ کو ٹائٹن کی سطح پر اترے گا۔ سائنسدان ٹائٹن کی فضا کا مطالعہ کریں گے کیونکہ کہا جاتا ہے کہ زمین پر زندگی کی ابتدا سے قبل ٹائٹن جیسی فضا پائی جاتی تھی۔ ٹائٹن کی فضا کا بیشتر حصہ نائٹروجن پر مشتمل ہے جیسے ماضی میں زمین کی فضا میں تھا البتہ ٹائٹن کی فضا کا درجۂ حرارت کہیں کم ہے جو کہ منفی ایک سو اسی ڈگری سینٹی گریڈ کے برابر ہے۔ پروفیسر لیٹن نے اپنی تحقیق کا آغاز ایک پینٹگ سے متاثر ہو کر کیا تھا جس میں ٹائٹن کی سرزمین پر آبشار گرتے دکھائی گئی تھی۔ یہ پینٹنگ ہائجنز مشن کی تقریب کے موقع پر امریکی خلائی ایجنسی کی ہدایت پر تیار کی گئی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||