زُحل سےسات کروڑ کلومیٹر دُور | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
خلائی گاڑی کاسینی ہائجنز کے کیمرہ نے زحل کی انتہائی خوبصورت تصویریں زمین پر قائم خلائی مرکز کو بھیجنا شروع کر دی ہیں۔ امریکہ اور یورپ کے اشتراک سے تیار ہونے والی یہ خلائی گاڑی جولائی میں زُحل پر پہنچے گی۔ لیکن ابھی اس نے چھ کروڑ نوّے لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے سیارے کی خوبصورت تصویر بھیجی ہے۔ خلائی گاڑی زحل پر پہنچنے کے بعد چار سال تک سیارے کا مطالعہ کرے گی جبکہ اس کا ایک حصہ سیارے کے چاند ٹائٹن پر اُترے گا۔ ماہرِ فلکیات ڈاکٹر کیرولن پارکو کا کہنا ہے کہ جوں جوں خلائی گاڑی سیارے کے قریب جائے گی تصویریں بڑی اور خوبصورت ہوتی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ زحل کے چاند کی پہلی تصویریں اپریل تک توقع ہیں۔ دنیا کے سترہ ممالک کے دوسو ساٹھ سائنسدان اس خلائی گاڑی سے حاصل ہونے والی معلومات کے ذریعے دائروں والے سیارے زُحل کو بہتر طور پر سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ ماہر فلکیات ڈاکٹر آندرے براہیک کے مطابق خلائی گاڑی کاسینی کا مِشن خلائی تحقیق کی تاریخ کا سب س دلیرانہ مِشن ہے جو ایک بین الاقوامی کوشش کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ مِشن انسان کی طرف سے اپنے گردو نواح کو سمجھنے کی کوششوں کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||