BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 25 December, 2004, 03:45 GMT 08:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زحل کے چاند پر تین ہفتے میں
ہیگنس
ہیگنس کو زحل کے چاند کی طرف بڑھتے ہوئے اونچے درجہ حرارت کا سامنا کرنا پڑے گا
خلائی تجربہ گاہ ہوئگنز زحل کے سب سے بڑے چاند ٹائٹن کی طرف اپنے سفر پر نکل چکی ہے۔

امریکی خلائی ایجنسی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ خلائی تجربہ گاہ اپنی مادر خلائی گاڑی کیسینی سے الگ ہو گئی ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ ٹائٹن پر حالات ویسے ہی ہیں جیسے زمین پر ساڑھے چار ارب سال پہلے رہے ہوں گے۔

سائنسدان ٹائٹن سے حاصل ہونے والی معلومات کی مدد سے اس عمل کو سمجھنے کی کوشش کریں گے جس کے تحت زمین پر زندگی کے لیے موافق حالات پیدا ہوئے۔

امریکہ اور یورپ کی مشترکہ طور پر تیار کردہ خلائی تجربہ گاہ کرسمس کے روز اپنی مادر خلائی گاڑی کیسینی سے الگ ہوئی اور اب یہ تین ہفتے تک تیرتی ہوئی ٹائیٹن کی پراسرار دنیا میں پہنچ جائے گی۔

چودہ جنوری کو ہوئگنز پیراشوٹ کی مدد سے ٹائٹن کی فضا کے بارے میں مفید معلومات فراہم کرتی ہوئی دو گھنٹے میں ٹائٹن کی سطح پر اترے گی۔

سائنسدان ابھی ٹائٹن کی سطح کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔

ہوئگنز اپنی مادر خلائی گاڑی کیسینی کی پیٹھ پر زمین سے سات سال سفر کر کے جولائی میں دائروں والے سیارے پر پہنچی تھی۔ اس کے بعد اب وہ کیسینی سے الگ ہو کر سیارے کے چاند کی طرف بڑھنا شروع کرے گی۔

خلائی گاڑی کے چاند پر اترنے کا منظر
خلائی گاڑی کے چاند پر اترنے کے آخری مرحلے کا تصوراتی منظر
اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد