زحل کے چاند پر تین ہفتے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
خلائی تجربہ گاہ ہوئگنز زحل کے سب سے بڑے چاند ٹائٹن کی طرف اپنے سفر پر نکل چکی ہے۔ امریکی خلائی ایجنسی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ خلائی تجربہ گاہ اپنی مادر خلائی گاڑی کیسینی سے الگ ہو گئی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ٹائٹن پر حالات ویسے ہی ہیں جیسے زمین پر ساڑھے چار ارب سال پہلے رہے ہوں گے۔ سائنسدان ٹائٹن سے حاصل ہونے والی معلومات کی مدد سے اس عمل کو سمجھنے کی کوشش کریں گے جس کے تحت زمین پر زندگی کے لیے موافق حالات پیدا ہوئے۔ امریکہ اور یورپ کی مشترکہ طور پر تیار کردہ خلائی تجربہ گاہ کرسمس کے روز اپنی مادر خلائی گاڑی کیسینی سے الگ ہوئی اور اب یہ تین ہفتے تک تیرتی ہوئی ٹائیٹن کی پراسرار دنیا میں پہنچ جائے گی۔ چودہ جنوری کو ہوئگنز پیراشوٹ کی مدد سے ٹائٹن کی فضا کے بارے میں مفید معلومات فراہم کرتی ہوئی دو گھنٹے میں ٹائٹن کی سطح پر اترے گی۔ سائنسدان ابھی ٹائٹن کی سطح کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔ ہوئگنز اپنی مادر خلائی گاڑی کیسینی کی پیٹھ پر زمین سے سات سال سفر کر کے جولائی میں دائروں والے سیارے پر پہنچی تھی۔ اس کے بعد اب وہ کیسینی سے الگ ہو کر سیارے کے چاند کی طرف بڑھنا شروع کرے گی۔
|
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||