تیل کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں تیل کا بھاؤ جمعرات کو منڈی بند ہونے پر دس دن میں نویں بار پچھلے ریکارڈ سے زیادہ اونچا چلاگیا۔ نیو یارک میں خام تیل کا بھاؤ ساڑھے پینتالیس ڈالر فی بیرل پر بند ہوا اگرچہ یہ دن میں اس سے بھی اونچا چلاگیا تھا۔ لندن میں برنٹ خام تیل کی قیمت میں 72 سینٹ کا اضافہ ہوا اور اس کا بھاؤ بیالیس عشاریہ انتیس پر بند ہوا۔ تیل کی عالمی منڈی میں یہ تیزی مقتدیٰ الصدر کے حامیوں کی طرف سے تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کی خبروں کے بعد دیکھنے میں آئی۔ ان دھمکیوں کے پیش نظر عراقی حکام نے احتیاطی طور پر ایک پائپ لائن بند کر دی ہے اور اس کی وجہ سے تیل کی برآمدات آدھی رہ گئی ہیں۔ عراق اس وقت صرف اکتالیس ہزار بیرل فی گھنٹہ کے حساب سے تیل برآمد کر رہا ہے جب کہ عام طور پر یہ اسی ہزار بیرل فی گھنٹہ کے حساب سے تیل برآمد کرتا ہے۔ عراق کی تیل کی برآمدات کی ایک بہت بڑی مقدار بصرہ سے ہو کر گزرتی ہے جہاں مقتدی الصدر کے حامیوں نے عراقی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ بدھ کی شام سعودی عرب یہ اعلان کرچکا تھا کہ وہ یومیہ پیداوار میں ایک اعشاریہ تین ملین بیرل اضافہ کردے گا۔ لیکن سپلائی کے بارے میں منڈی کی تشویش میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔ عام طور سے کہا جارہا ہے کہ عراق سے تیل کی سپلائی کی بابت جو فکر مندی ہے اس نے منڈی میں یہ ہلچل مچارکھی ہے۔ اس کے علاوہ روسی سرمایہ کار یوکوس کے معاملے نے جلتی پہ تیل کا کام کیا ہے۔ یہ فکر مندی امریکہ کے سرکاری بیان میں بھی نظر آرہی ہے جس نے روس سے کہا ہے کہ اس کمپنی کے ساتھ اس کی جو قانونی لڑائی ہے اس میں سیاست گری سے گریز کیا جائے۔ امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ دیکھنے میں یہ آرہا ہے کہ یوکوس کے معاملے کونمٹانے میں معمول کے طریقوں سے کام نہیں لیا جارہا ہے۔ اسی لیے تاجر برادری بہت محتاط ہو گئی ہے۔ روسی حکام کہتے ہیں کہ ہم کوشش کررہے ہیں کہ یوکوس کے ذمہ ٹیکس کے جو اربوں ڈالر نکلتے ہیں وہ بازیاب کیے جائیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||