عراق مزید حملے اور ہلاکتیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں کم از کم چار عراقیوں کی ہلاکت اور کئی امریکی فوجیوں اور عراقیوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ امریکی صدر جارج بش نے عراق خصوصا ً فلوجہ میں سلامتی کے معاملے پر عراق میں امریکی فوج کے سربراہ جنرل جان ابی زید سے گفتگو کی ہے۔ جنرل ابی زید نے صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے سنیچر کو شہر کا دورہ کیا تھا۔ تاحال فلوجہ میں جنگ بندی جاری ہے لیکن امریکی فوج نے دھمکی دی تھی کہ اگر شدت پسند اپنے ہتھیار ان کے حوالے نہیں کرتے تو فوجی کارروائی دوبارہ شروع کر دی جائے گی۔ اس سے قبل بصرہ کے ساحل سے ملحق خلیج فارس میں تیل کے ایک اڈے کے نزدیک کشتی کے ایک خودکش حملے میں اتحادی فوج کے دو ہلاک ہو گئے تھے۔ اتحادی فوج کے یہ ارکان اس وقت ہلاک ہوئے جب امریکی بحریہ کے جہاز ایک چھوٹی کشتی کو روکنے کی کوشش کر رہا تھا۔ کشتی دھماکے سے اڑ گئی جس کے نتیجے میں اتحادی فوج کے دوارکان ہلاک ہو گئے۔ امریکی بحریہ کی ایک ترجمان کے مطابق اس واقعے میں عملے کے پانچ مزید افراد زخمی بھی ہوئے۔ امریکی بحریہ کے ایک اہلکار کے مطابق ساحل سے ملحق تیل کی تنصیبات پرسپیڈ بوٹوں کے ساتھ خود کش دو مزید حملے کئے گئے لیکن ان خود کش حملوں میں تنصیبات کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
یہ امریکی فوج پر کشتیوں کی مدد سے کئے جانے والے اولین خود کش حملے بتائے جاتے ہیں۔ علاقے میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ بصرہ سے برآمد کیا جانے والا تیل نہ صرف سیاسی لحاظ سے اہم بلکہ معاشی لحاظ سے بھی اس کی بہت اہمیت ہے۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ کئی عراقیوں کے ذہنوں میں تیل کی ایک علامتی اہمیت بھی ہے جو اسے امریکی حملے کی خاص وجہ سمجھتے ہیں۔ یاد رہے کہ اکتوبر سن دو ہزار میں امریکی جنگی جہاز یو ایس ایس کول پر ہونے والے ایسے ہی ایک حملے میں سترہ امریکی سیلر ہلاک ہو گئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||