فلوجہ میں فوجی کارروائی کی دھمکی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں امریکی فوج کے ایک اعلٰی اہلکار جنرل مارک کمٹ نے کہا ہے کہ اگر فلوجہ میں عراقی عسکریت پسندوں نے ہتھیار نہ ڈالے تو امریکی فوج اپنا آپریشن دوبارہ شروع کردے گی۔ یہ بیان جنرل کمٹ نے عراق کے مقامی رہنماؤں کے ساتھ ایک معاہدہ طے کرنے کے بعد جاری کیا ہے۔ اس معاہدے میں کہا گیا ہے کہ عسکریت پسندوں کو بھاری اسلحہ امریکی فوج کے حوالے کرنا ہوگا۔ جنرل کمٹ نے کہا امریکہ کو یہ علم تو نہیں ہے کہ ان افراد کے پاس کتنی تعداد میں بھاری اسلحہ موجود ہے تاہم انہیں یہ ہتھیار امریکی فوجیوں کے حوالے کرنے ہوں گے۔ انہوں نے اس اقدام کے لئے وقت کی کسی حد کا تعین تو نہیں کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ فلوجہ میں ایسی صورتحال بحال کرنا چاہتے ہیں جس میں اتحادی افواج آزادانہ طور پر شہر کا گشت کرسکیں اور عراقی پولیس اپنا کام دوبارہ شروع کرسکے۔ شہر میں حالیہ تشدد آمیز واقعات میں سینکڑوں عراقی شہری اور ستر امریکی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔ دریں اثناء ہنڈوراس ریپبلک کے صدر ریکارڈو مڈورا نے اعلان کیا ہے کہ وہ عراق سے اپنے فوجی واپس بلارہے ہیں۔ ملک کے سرکاری ٹی وی پر اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ان کے فوجی جلد از جلد عراق کی سرزمین چھوڑ دیں گے۔ عراق میں لاطینی امریکہ کے ملک ہنڈوراس کے ساڑھے تین سو فوجی ہسپانوی بریگیڈ کے ماتحت تعینات ہیں۔ یہ اقدام سپین کی نئی حکومت کے اس اعلان کے بعد کیا جا رہا ہے جس میں سپین کے وزیر اعظم نے عراق سے اپنے چودہ سو فوجی واپس بلانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||