’سپین کے فوجیوں پرحملے نہ کریں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپین کے وزیر اعظم نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ عراق سے سپین کی افواج کو جلد از جلد واپس بلا لیا جائے گا۔ سپین کے وزیر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ کو ایک ملاقات کے دوران عراق سے سپین کی فوجوں کے واپس بلائے جانے کے فیصلے سے آگاہ کیا۔ سپین کے وزیر خارجہ کے بقول کولن پاول سپین کی نئی حکومت کے اس فیصلے سے مایوس نظر آ رہے تھے۔ نجف شریف میں محصور عراق کے شیعہ رہنما مقتدی الصدر نے اپنے حامیوں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ سپین کی افواج پر حملے بند کر دیں۔
عراق میں امریکی منتظم پال بریمر نے کہا ہے کہ جون کی تیس تاریخ تک عراق کی سیکورٹی فورس اس قابل نہیں ہو سکے گی کہ وہ عراق کی نظم و نسق سنبھال سکے۔ انہوں نے کہا کہ عراق میں اتحادی فوج کو مزید کی ہزار فوجی درکار ہیں۔ پال بریمر کا بیان اایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب عراق میں گزشتہ دو ہفتوں سے جاری تشدد کے واقعات میں سو کے قریب امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ امریکہ کی اتحادی فوج کے حکام کافی عرصے سے یہ بات بے واضح االفاظ میں یہ بات کہتے رہے ہیں کہ جون کی تیس تاریخ کے بعد بھی سیکورٹی کا انتظام اتحادی فوج کے ہاتھ ہی میں رہے گا۔ بغداد میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ عراق سے سپین کے تیرہ سو فوجی چلے جانےسے خاصہ فرق پڑے گا اور ان کی کمی کو شدت سے محسوس کیا جائے گا۔ ذرائع ابلاغ میں خاصی مدت سے یہ باتیں گردش کر رہی ہیں کہ سپین کے بعد دوسرے اتحادی بھی اپنی فوجیوں واپس بلا سکتے ہیں۔ پرتگال سپین کے فیصلے کی تقلید کر سکتا ہے اور قزقستان پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ عراق میں اپنے فوجیوں کی مدت پوری ہونے کے بعد وہ ان کی جگہ دوسرے فوجی نہیں بھیجے گا۔ سپین کے اس فیصلے سے صدر بش کے لیے سیاسی مشکلات پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||