ہسپانوی فوج ، بش کی تشویش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وائٹ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق امریکی صدر بش نے اسپین کے عراق سے اپنی فوج واپس بلانے پر تقریباً پانچ منٹ کی فون کال پر سپین کے وزیر اعظم سے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے میڈرد کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس فیصلے سے باز رہے کیونکہ اس فیصلے سے دہشت گردوں کو ہوا ملے گی۔ اتوار کے روز اسپین کے نئے وزیرِاعظم مسٹر زیپاٹرو نے جلد از جلد فوج واپس بلانے حکم دیا ہے۔ جبکہ ان کے وزیرِ خارجہ نے اس خیال کو مسترد کیا ہے کہ ان کا ملک عراق کی خراب صورتِ حال سے منہ موڑ رہا ہے۔ ہمارے ترجمان کے مطابق امریکہ میں یہ تاثر عام ہے کہ اسپین کی حکومت نے اس فیصلے کو اپنانے میں شدید غلطی کی ہے اور اس نے یہ فیصلہ دہشت گردی کے حق میں کیا ہے۔ مسٹر زیپاٹرو نے امریکی صدر کو فون پر اس پیش رفت کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔ امریکی صدر کے ترجمان اسکاٹ مک کلیلن نے صحافیوں کو آگاہ کیا ہے کہ صدر نے اسپین کے اس ردعمل کے بارے میں کہا ہے کہ ’اسپین کے اس فیصلے سے اتحادی افواج کو خطرات پیش نہیں آنے چاہئیں‘۔ اس کے علاوہ انھوں نے مستقبل کے حوالے سے ان تمام باتوں پر زور دیا ہے جس میں دہشت گردی اور عراق کی آزادی کے دشمنوں کے خلاف کارروائی کرنا شامل ہے۔ مسٹر مک کلیلن نے مزید کوئی معلومات دیئے بغیر کہا ہے کہ واشنگٹن نے اتحادی افواج کے اظہارِ یکجہتی کو بہت سراہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||