حریت، منموہن ملاقات کا خیرمقدم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ اور کشمیری علیحدگی پسند رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات کا خیر مقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس ملاقات سے کشمیر پر جاری مذاکرات پر مثبت اثر پڑے گا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نعیم خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس طرح کی ملاقاتوں کا حامی ہے اور یہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کے تحت کشمیری رہنما چند ماہ پہلے پاکستان آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف اور بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ کے درمیان اس ماہ کے تیسرے ہفتے میں امریکہ میں ملاقات کے دوران کشمیر کا مسئلہ دونوں رہنماؤں کی بات چیت میں سر فہرست رہے گا۔ اس سوال پر کہ کیا اس ملاقات میں کشمیر کے بارے میں کسی اہم پیش رفت کی توقع ہے ترجمان نے کہا کہ وہ اس بارے میں ابھی کچھ نہیں کہ سکتے۔ ادھر وزیرِخارجہ خورشید قصوری نے پیر کی رات غیر ملکی سفارتکاروں کے اعزاز میں ایک عشائیے میں صحافیوں سےگفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پر امید ہیں کہ مشرف۔منموہن سنگھ ملاقات میں کشمیر پر پیش رفت ہو گی اور کچھ مثبت اقدامات کا اعلان بھی ہو سکتا ہے۔ پیر کو بھارت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ کے ترجمان نے کہا تھا کہ اگر کشمیر میں تشدد اور در اندازی کے واقعات میں کمی آئی تو وہاں تعینات فوج میں کمی کی جاسکتی ہے۔ یہ بیان آل پارٹیز حریت کانفرنس کے پانچ رہنماؤں سے وزیر اعظم منموہن سنگھ کی ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم کے ترجمان سنجے بارو کے مطابق اے پی ایچ سی۔منموہن ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ حراست میں لیے گئے افراد کے مقدمات پر بھی از سر نو جائزہ لیا جائے گا اور یہ کہ انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے بھی ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ اس ملاقات سے پہلے حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق نے کہا تھا کہ کشمیر کا مسئلہ سیاسی طریقے سے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔ حریت کے ایک سخت گیر دھڑے کے رہنما سید علی شاہ گیلانی نے اس ملاقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو رہنما ان مذاکرات میں حصہ لے رہے ہیں وہ کشمیر کی خود مختاریت کے حقوق پر سمجھوتہ کر رہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||