’فوج میں کمی کی جاسکتی ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کے وزیر اعظم منموہن سنگھ کے ترجمان نے کہا ہے کہ اگر کشمیر میں تشدد اور در اندازی کے واقعات میں کمی آئی تو وہاں تعینات گوج میں کمی کی جاسکتی ہے۔ یہ بیان آل پارٹیز حریت کانفرنس کے پانچ رہنماؤں سے وزیر اعظم منموہن سنگھ کی ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس ملاقات سے پہلے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں تین الگ الگ واقعات میں تیرہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ وزیر اعظم کے ترجمان سنجے بارو کے مطابق انہوں نے اس پات پر بھی اتفاق کیا کہ حراست میں لئے گئے افراد کے مقدمات پر بھی از سر نو جائزہ لیا جائے گا اور یہ کہ انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے بھی ضروری اقدامات کئے جائیں گے۔ اس ملاقات سے پہلے حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق نے کہا تھا کہ کشمیر کا مسلہ سیاسی طریقے سے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔ حریت کے ایک سخت گیر دھڑے کے رہنما سیر علی شاہ گیلانی نے اس ملاقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو رہنما ان مذاکرات میں حصہ لے رہے ہیں وہ کشمیر کی خود مختاریت کے حقوق پر سمجھوتہ کررہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||