BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 September, 2005, 12:14 GMT 17:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرینگر کی چھاپہ مار خواتین گرفتار
’دختران ملت‘
دختران ملت نے 1990 کی دہائی میں برقعہ پہننے کی مہم بھی شروع کی تھی جو زیادہ دن نہیں چل سکی
بھارت کے زیر انتطام کشمیر میں پولیس نے سات علیحدگی پسند خواتین کو ان کی سربراہ سمیت گرفتار کر لیا ہے جنہوں نے سری نگر میں کئی ہوٹلوں پر شراب فروخت کرنے کا الزام لگا کر وہاں توڑ پھوڑ کی ہے۔

دختران ملت نامی تنظیم کے مریم دستے سے تعلق رکھنے والی یہ خواتین شراب نوشی اور جسم فروشی کے خلاف مہم چلا رہی تھیں۔ آسیہ اندرابی ایک علیحدگی پسند رہنما کے طور پر جانی جاتی ہیں۔

آسیہ اندرابی کا کہنا تھا کہ بھارت کشمیر میں کئی محاذوں پر لڑائی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا مسلمانوں میں ’اخلاقی گراوٹ‘ پیدا کرنا بھی بھارت کے منصوبے کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بھارت کے اس منصوبے کو کامیاب نہیں ہونے نہیں دیں گی۔

ایک اعلیٰ پولیس اہلکار منیر خان نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ آسیہ اندرابی کو ایک ہوٹل میں ایک شادی شدہ جوڑے پر حملہ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ضابطۂ اخلاق نافذ کرنے کا حق ان خواتین کو کس نے دیا ہے‘۔

شراب نوشی کی ایک دکان کے قریب ایک شخص کا کہنا تھا ’ہم نے وزیر اعلیٰ سے درخواست کی تھی کہ اس دوکان کو وہاں نہ کھولا جائے اس سے ہمارے بچوں پر برا اثر پڑتا ہے لیکن ہم سے کہا گیا کہ یہ ریاست میں حالات بحال ہونے کی علامت ہے‘۔

ایک اور شخص کا کہنا تھا ’ان عورتوں نے بڑی جرات کا کام کیا ہے ہم ان کی حمایت کرتے ہیں‘۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس ایچ کے لوہیا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس طرح کے حملوں کو غیر قانونی قرار دیا۔

مریم دستے نے شہر کے حبہ کدل علاقے کا دورہ کر کے وہاں موجود قحبہ خانوں کو بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

اپنی اس مہم کا آغاز کرنے سے قبل دستے نے اصلاح پسند سبحان ہجام کے اعزاز میں ایک تقریب کا انعقاد کیا تھا۔

مرحوم سبحان ہجام نے سری نگر میں جسم فروشی کے کاروبار کے خلاف تنہا ہی مہم شروع کی تھی۔

ان کی اس مہم کے نتیجے میں حکومت نے ریاست میں قحبہ خانوں کو ممنوع قرار دے دیا تھا۔

خواتین
دحتران ملت نے برقہ پہنے کی مہم بھی شروع کی تھی

سری نگر اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر کےدوسرے کسی بھی علاقے میں قانونی طور پر کوئی ریڈ لائٹ علاقہ نہیں ہے لیکن پھر بھی جسم فروشی کا کاروبار رہا ہے۔

مسٹر لوہیا کا کہنا ہے کہ چھوٹے چھوٹے گروہ اب بھی اس کاروبار میں لگے ہوئے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس سال پولیس نے ایسے آٹھ گروہوں کا پردہ فاش کیا تھا۔

یہ دستہ اپنی مہم پوری ریاست میں شروع کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

آسیہ اندرابی کا کہنا ہے کہ شراب اور جسم فروشی کے خلاف یہ مہم سری نگر سے شروع ہوئی ہے لیکن آہستہ آہستہ اسےریاست کے دوسرے علاقوں میں شروع کیا جائے گا۔

علیحدگی پسند مہم شروع ہونے کے بعد1989 سے وادی میں شراب کی دوکانیں اور سنیما ہال بند کر دیئے گئے تھے۔لیکن گزشتہ دو سال سے یہ دوبارہ کھلنے شروع ہو گئے ۔

دختران ملت نے 1990 کی دہائی میں مسلم خواتین کے برقعہ پہننے کی مہم بھی شروع کی تھی اس مہم کو ابتداء میں تو کامیابی ملی لیکن زیادہ دن نہیں چل سکی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد