BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 08 November, 2004, 14:30 GMT 19:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر میں زبردست احتجاج

News image
وادی میں دوسرے روز بھی احتجاج
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے سرحدی قصبے ہندواڑہ میں بھارتی فوجی اہلکاروں کے ہاتھوں ایک جواں سال خاتون اور اس کی کمسن بچی کی مبینہ آبروویزی کے خلاف پوری وادی میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔

فوجیوں نے مبینہ طور پر سنیچر کی رات کو ایک تیس سالہ عورت اور اس کی دس سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کی۔

یہ واقعہ اس وقت ہوا ہے جب بھارت کے وزیر داخلہ شوراج پٹیل ریاست کے دورے پر ہیں۔

کل جماعتی حریت کانفرنس گیلانی دھڑے کے سربراہ سید علی شاہ گیلانی اور جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیر مین یاسین ملک نے ہندواڑہ جا کر متاثرہ کنبے کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا۔

مسٹر ملک نے مقامی وکلا کے ساتھ اس واقعہ کے خلاف احتجاجی دھرنا بھی دیا۔ ان دونوں رہنماؤں نے وزیراعلی مفتی محمد سعید کے اس بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ڈاکٹری جانچ سے کمسن لڑکی کی آبروریزی ثابت نہیں ہوتی ہے ۔ان رہنماؤں نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ بچی صدمے سے نڈھال ہے اور چلنے پھرنے کے قابل بھی نہیں ہے۔

حریت کانفرنس عمر فاروق دھڑے نے بھی آبروریزی کے اس واقعے کی شدید مزمت کی ہے۔ اس دوران کل جماعتی حریت کانفرنس نے اس بات کی تردید کی ہے کہ پاکستان کی جانب سے اس پر دباؤ ڈالاجارہا ہے کہ وہ ہندوستان سے مذاکرات نہ کرے۔

علیحدگی پسند رہنما مولوی عباس انصاری نے اس سلسلے میں ہندوستان کے وزیر داخلہ شیوراج پاٹل کے بیان کو غلط قرار دیا ہے۔

مولوی انصاری نے کہا ہے کہ دلی سے مذاکرات اس لیےٹوٹے کہ وہاں حکومت بدل گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ" نہ ہم نے کسی کا دباؤ قبول کیا ہے اور نہ کبھی کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کا دھڑا اب بھی اس امر پر یقین رکھتا ہے کہ بامعنی اور بامقصد مذاکرات ہی مسائل کو حل کرنے کا واحد ذریعہ ہیں۔

سرینگر میں مسلم لیگ آرگنائزیشن کے کارکنوں نے اس واقعے کے خلاف احتجاجی جلوس نکالا۔ پولیس نے میاں منظور اور جاوید میر کے ہمراہ کئی کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔

وکلا نے بھی عدالتوں کا بائیکاٹ کر کے اس واقعے کے خلاف ایک احتجاجی جلوس نکالا۔ ادھر کشمیر یونیورسیٹی میں طلبہ اور طالبات نے بھی ایک مظاہرہ کیا ہے۔

خواتین کی تنظیم دختران ملت نے اس واقعہ پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ ان افراد اور جماعتوں کے لۓ چشم کشا ہونا چاہیۓ جو اب بھی بھارتی اہلکاروں کے ڈھکوسلوں سے کوئی امید رکھتے ہیں۔ تنظیم نے دس نومبر یعنی بدھ کے روز ہڑتال کا نعرہ دیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد