کشمیر: بھارتی فوج ، ہڑتال و مظاہرے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں بھارتی فوج کی تعیناتی کی ستاونواں سال پورا ہونے پر ہڑتال کی گئی ہے۔ ہڑتال کا مطالبہ علیحدگی پسند گروپوں نے کیا تھا جو کشمیر میں ہندوستان کی حکومت کے خلاف مہم چلارہے ہیں۔ وادی کشمیر میں زیادہ تر دکانیں بند ہیں اور سڑکوں پر بہت کم ٹریفک ہے۔ ریاست کے موسم گرما کے دارلحکومت سری نگر میں ہڑتال کے حق میں ایک احتجاجی مظاہرہ کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے طاقت کا استعمال کیا۔ ایک سینئر علیحدگی پسند رہنما اور جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چئرمین جاوید میر کو ان کے دو درجن ساتھیوں سمیت نظربند کردیا گیا۔ انیس سو سینتالیس میں آج کے دن بھارتی فوجیں ریاست کے ہندو حکمران مہاراجہ ہری سنگھ کے مطالبہ پر کشمیر مں داخل ہوئی تھیں تاکہ پاکستان کے قبائلیوں کے حملہ کو روک سکیں۔ اس واقعہ کے بعد دونوں ملکوں میں جنگ چھڑ گئی تھی۔ دونوں افواج نے اقوام متحدہ کی طرف سے کرائی گئی اس سرحد پر جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی تھی جسے اب لائن آف کنٹرول کہتے ہیں۔ یہ لائن آف کنٹرول کشمیر کو بھارت اور پاکستان کے درمیان تقسیم کرتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||