سرینگر: کشمیر کے منتظم پر حملہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں صوبائی انتظامیہ کے سربراہ خورشید غنی ایک حملے میں بچ گئے۔ یہ واقعہ سرینگر کے جنوب میں پیش آیا۔ حملے آوروں نے پیر کی شام خورشید غنی کی کار پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی ۔ غنی نے بی بی سی کو بتایا کہ شدت پسندوں نے ان کی بلٹ پروف کار پر حملے کیا لیکن انہیں اور ان کے ساتھ کار میں سوار ایک اعلیٰ بیوروکریٹ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ اس واقعہ میں خورشید غنی کی گاڑی کے قافلے میں شامل ایک پولیس اہلکار شدید زخمی ہوگیا۔ ادھر دو شدت پسند تنظیموں، جیش محمد اور حرکت المجاہدین، نے بی بی سی کے دفتر فون کر کے بتایا کہ انہوں نے ایک حملے میں چار پولیس اہلکار ہلاک کر دیئے ہیں۔ ایک روز قبل سیاسی جماعت نیشنل کانفرنس کے عمر عبداللہ اننت ناگ میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں بال بال بچے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||