مشرف فارمولہ: خیر مقدم اور تنقید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسلۂ کشمیر کے حل کے لئے پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف کی نئی تجویز کا جہاں چند کشمیری رہنماؤں نے خیر مقدم کیا ہے وہیں چند ایک نے اسے ’نظریاتی یو ٹرن‘ کہہ کرمسترد کر دیا ہے۔ عام کشمیری بھی جنرل مشرف کی تجویز پر متفق نہیں نظر آتے۔ جنرل مشرف نے گزشتہ روز اسلام آباد میں صحافیوں کے سامنے ایک ’نیا فارمولہ ‘ پیش کیا جس کے تحت کشمیر کو مذہبی، جغرافیائی یا لسانی بنیادوں پر تقسیم کرکے خود مختاری، مشترکہ کنٹرول اور اقوام متحدہ کی نگرانی پر مشتمل حل ڈھونڈا جا سکتا ہے۔ کشمیر کی سب سے بڑی علیحدگی پسند جماعت حریت کانفرنس کے معتدل دھڑے نے مشرف فارمولے کا خیر مقدم کیا ہے۔ جماعت کے رہنما عبدالغنی بھٹ کا کہنا ہے کہ اس فارمولے کے تحت پایا جانے والا حل تینوں فریقین بھارت، پاکستان اور کشمیریوں کو قابل قبول ہوگا۔ انہوں نے حکومت ہند سے تاکید کی وہ اس تجویز کو مسترد نہ کرے۔ ’انہیں بھی اپنی تجاویز پیش کرنی چاہئیں۔‘ تاہم حریت کے سخت گیر دھڑے کی طرف سے محتاط رد عمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ سید علی شاہ گیلانی نے بی بی سی کو بتایا کہ مسلے کو حل کرنے کے لئے استصواب رائے کرایا جانا چاہئیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا متبادل ایک ایسا حل ہو سکتا ہے
خود مختار کشمیر کے حامی رہنما جاوید میر کا کہنا ہے کہ جنرل مشرف کی تجویز کو یکسر رد نہیں کیا جانا چاہئیے۔ انہوں نے بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ بھی لچک دار رویہ اختیار کرے۔ شدت پسند تنظیموں کے اتحاد متحدہ جہاد کونسل نے ابھی اس تجویز پر اپنی رائے نہیں دی ہے، تاہم کشمیر میں سرگرم ایک عسکریت پسند گروپ جمیعت المجاہدین نے اس فارمولے کہ مسترد کر دیا ہے۔ گروپ کے ایک کمانڈر کا کہنا تھا کہ مشرف کشمیریوں پر ایک امریکی حل مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ عام لوگوں کے تاثرات بھی کچھ ملے جلے ہیں۔ سری نگر کے ایک دکان دار ندیم کا کہنا تھا کہ وہ ریاست کی تقسیم تب ہی قبول کر سکتے ہیں اگر جموں کے مسلمان اضلاع کو وادیء کشمیر سے ملا دیا جائے۔ ایک اور دوکان دار عبدالمجید کا کہنا تھا کہ اگرچہ مشرف کا فارمولہ ’پرفیکٹ‘ نہیں ہے لیکن ’ایک کشمیری ہونے کی حیثیت سے میں اسے موجودہ صورت حال میں تسلیم کرتا ہوں۔‘ تاہم ایک سرکاری ملازم محمد مقبول کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تجویز تباہ کن ہے۔ ’ہم اپنے ملک کی ’بالکنائزیشن ‘ کی اجازت نہیں دے سکتے۔‘ دوسری طرف جموں سے ریاستی پولیس کے سابق سربراہ منموہن کھجوریا کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کو اس تجویز پر غور کرنا چاہئیے اور جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہئیے۔ ان کہا کہنا تھا کہ یہ تجویز پاکستانی صحافیوں کے حالیہ کشمیر دورے کے بعد آئی ہے۔ ان کے مطابق ان صحافیوں کو احساس ہوا کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں پاکستان کی حمایت کم ہوکر نہ ہونے کے برابر ہو گئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||