’ہمارا موقف تبدیل نہیں ہوا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حریت کانفرنس کے رہنما عباس انصاری نے کہا ہے کہ جب تک کشمیر کے اصل مسئلے کو چھیڑا نہیں جائےگا اور اس پر بات نہیں کی جائے گی تب تک بھارت اور پاکستان میں امن قائم نہیں ہو سکتا ۔ بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے اس سوال پر کہ انتخابی عمل پرجب ان کا یقین ہی نہیں تو پھر اس کے بائیکاٹ کی اپیل کرنے کا کیا مقصد ہے، انہوں نے کہا کہ انہوں نے بائیکاٹ کی اپیل نہیں کی بلکہ یہ کہا ہے کہ ’ہم نے نہ آج تک اس میں حصہ لیا ہے اور نہ لیں گے۔‘ ’اور یہ بات اس لئے یاد دلانے کی ضرورت پیش آئی کیونکہ لوگ یہ سوال کر رہے تھے کہ اس سلسلے میں کیا ہم نے اپنا موقف تبدیل کر دیا ہے۔‘ اس سوال کے جواب میں کہ ایک زمانے میں حریت کانفرنس کوایک مضبوط اتحاد سمجھا جاتا تھا اور لوگ اس کی بات پر کان بھی دھرتے تھے اور بہت موثر بائیکاٹ ہوتا تھا لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ دھڑہ بندی ہو گئی ہے کیا لوگ ان کی بات کو اب بھی سنجیدگی سے لیں گے۔ ان کا جواب تھا کہ ’بالکل سنجیدگی سے لیں گے بلکہ یہ لوگوں کا ہی مطالبہ تھا۔‘ بائیکاٹ کی اپیل اتنی تاخیر سے کیے جانے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ایگزیکیٹو، جنرل کونسل ، ورکنگ کمیٹی ، اور دیگر لوگوں کی میٹنگ کے بعد کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات چلتے رہیں گے لیکن انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔ اور کوشش کی جائے گی کہ مذاکرات سے اس مسًلے کا حل تلاش کیا جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||