سیاچین: حل کے لیے ڈیڈ لائن مقرر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے وزرا خارجہ نے منگل کو اسلام آباد میں دو روزہ بات چیت کے بعد ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ سیاچن کے مسئلے پر دونوں ممالک نے ٹھوس بات چیت کی ہے اور اس برس کے اختتام تک اس مسئلے کے کسی مشترکہ نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس کے علاوہ سرکریک کے علاقے میں مشترکہ سروے کرانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سولہ برس پہلے تعطل کا شکار ہونے والے مشترکہ اقتصادی کمیشن کو بھی بحال کر دیا گیا ہے جس کا اجلاس منگل کو اسلام آباد میں ہوا جس میں دونوں ممالک میں زراعت، سائنس، ماحول، انفارمیشن ٹیکنالوجی، تعلیم، صحت اور سیاحت کے میدان میں تعاون پر بات کی گئی۔ دونوں ممالک کے ماہرین کشمیر میں بچھڑے ہوئے خاندانوں کو ملانے کے لئے لائن آف کنٹرول پر ’میٹنگ پوائنٹس‘ بنانے کے لئے ماہرین کی سطح پر اس برس دسمبر میں ملاقات کریں گے۔ پاکستانی وزیر خارجہ خورشید قصوری نے اپنے بھارتی ہم منصب نٹور سنگھ کے ہمراہ دفتر خارجہ میں ایک پریس کانفرنس میں مشترکہ بیان پڑھ کر سنایا جس میں کمشیر کے حوالے سے دونوں ممالک نے بامقصد اور مستقبل کی طرف لے جانے والے حل کو کھوجنے پر اتفاق کیا ہے۔ خورشید قصوری نے کہا کہ وہ سیاچن کے مسئلے پر مزید تفصیلات نہیں بتا سکتے۔ دونوں وزرا خارجہ نے اس برس ہونے والے عمومی مذاکرات کے دوسرے دور کی پیش رفت کا جائزہ لیا اور کہا کہ مذاکرات کا دوسرا دور پہلے دور کی نسبت زیادہ ثمر آور رہا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ ان مذاکرات کا تیسرا دور جو اگلے برس جنوری میں شروع ہو گااس میں مذید پیش رفت ہو گی۔ دونوں وزرا خارجہ کے مطابق دہشت گردوں کو اس امن عمل میں رخنہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ وزرا خارجہ نے راولاکوٹ پونچھ اور ننکانہ صاحب امرتسر بس سروس کو جلد شروع کرنے کے حوالے سے مذاکرات اس برس کے آخر تک مکمل کرنے کا اعادہ کیا ہے۔اس کے علاوہ مظفرآبا سری نگر ٹرک سروس کی بحالی پر بھی بات چیت اس برس دسمبر تک تجارت کی غرض سے شروع کرنے پر بھی بات چیت اس برس دسمبر تک شروع کی جائے گی۔ بھارتی حکام کی طرف سے ویزا میں نرمی کے حوالے سے ایک مسودہ پیش کیا گیا ہے جس میں زائرین کے لئے مزید نرمی اور دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی وفود کے تبادلے کی تجاویز پیش کی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||