مویشی درآمد کرنے کی مخالفت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں گوشت کے کاروبار سے وابستہ بعض حلقوں نے بھارت سے مویشیوں کی درآمد کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ اس کی بجائے گوشت اور مویشیوں کی مقامی صنعت کو رعایات دی جائیں تو زیادہ مثبت نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت میں مویشیوں کی تجارت کا باضابطہ آغاز ہو چکا ہے اور اس ماہ کے شروع میں بھیڑ بکریوں کی پہلی کھیپ پاکستان پہنچ چکی ہے۔ ایوانِ صنعت و تجارت لاہور کی مجلس عاملہ کے رکن عبدالباسط کی سربراہی میں پولٹری کی صنعت سے تعلق رکھنے والے ایک وفد نے اسلام آباد میں وزیر اعظم سے ملاقات کی اور انہیں بھارت سے جانور درآمد کرنے کے بارے میں اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔ عبدالباسط نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے وزیر اعظم کی توجہ دو یونیورسٹیوں کی تحقیق کی طرف مبذول کرائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ میں پھیلنے والی ’میڈ کاؤ‘ نامی بیماری مبینہ طور پر بھارت سے درآمد کی جانے والی ہڈیوں سے پھیلی جس میں ان کے بقول مرنے کے بعد جلائے جانے والے انسانوں کی ہڈیاں بھی شامل ہوتی ہیں۔ انہوں نےکہا کہ اس رپورٹ کے بعد بھارت سے جانوروں کی درآمد ٹھیک نہیں۔ عبدالباسط نے اپنے بیان میں اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ وزیر اعظم نے بھارت سے تجارت کے حوالے سے کیا کہا۔ مذکورہ تحقیق کی سرکاری سطح پر کوئی تصدیق یا تردید نہیں ہوئی تاہم ایوان صنعت و تجارت کے عہدیدار نے کہا کہ ان کی ملاقات کے بعد وزیر اعظم نے ہدایات جاری کی ہیں کہ حکومتی سطح پر پولٹری ایسوسی ایشنز کی میٹنگز بلائی جائیں اور اس شعبے کو درپیش مسائل اور ان کے حل کے لیے تجاویز پر غور کیا جائے۔ بھارت سے بھیڑ بکریاں منگوانے والے پاکستانی درآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ بھارت سے بھیڑ بکروں کے علاوہ اگر بھینسیں بھی درآمد کی جائیں تو پاکستان میں بڑے گوشت کی قیمت آدھی ہوسکتی ہے جس کا فائدہ براہ راست صارف کو پہنچے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||