بھارتی بکروں کو مالٹا بخار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت سے درآمد کیے گئے سوا دو سو بکرے واہگہ سرحد کی قرنطینہ میں طبی جانچ پڑتال کے مراحل سے گزر رہے ہیں اور متعلقہ ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ بعض بکروں کو بروسیلیا بیکٹیریا سے ہونے والا مالٹا بخار ہے۔ بدھ کو وفاقی حکومت کے مشیر برائے اقتصادی امود ڈاکٹر سلمان شاہ نے واہگہ کے قرنطینہ کا دورہ کیا اور کہا کہ درآمد کیے جانے والے بکروں کا قرنطینہ میں رکھنے کا عرصہ غیر ضروری طور پر زیادہ ہے جسے مختصر کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ان بکروں کے چھ کے بجائے صرف دو ٹیسٹ لے کر انہیں باہر لے ج قرنطینہ کے ڈاکٹر احسان کا کہنا تھا کہ ابتدائی ٹیسٹوں سے پتہ چلا ہے کہ کچھ بکروں کو مالٹا بخار ہے جو مویشیوں کی ایک بیماری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ان بکروں کو پانچ روز قرنطینہ میں رکھیں گے۔ ڈاکٹر سلمان شاہ نے کہا کہ ابھی جو بکرے بھارت سے آئے ہیں ان کی تعداد کم ہے لیکن حکومت دس سے بارہ ہزار بکرے بھارت سے درآمد کرنا چاہتی ہے تاکہ گوشت کی قیمت میں کمی ہو۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سرحد پر ایک مذبح خانہ قائم کرے گی جہاں درآمد کیے جانے والے جانوروں کو ذبح کر کے ان کا گوشت مارکٹ تک پہنچایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت سے بکروں کی درآمد مقامی مارکیٹ میں گوشت کی قیمت کم کرنے کے لیے ضروری تھی۔ انہوں نے کہا کہ سرحد کے اس پار سے تجارت کے لیے حکومت واہگہ کے ساتھ ساتھ دوسری سرحدیں جیسے قصور میں گنڈا سنگھ بارڈر بھی کھولنے پر غور کررہی ہے۔ ڈاکٹر سلمان شاہ نے کہا کہ جانوروں کی بھارت سے درآمد سے ملک میں کنزیومر پرائس انڈکس کم ہوگا اور حکومت افراط زر کی شرح آٹھ فیصد کے ہدف تک لاسکے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بنک بھی افراط زر کنٹرول کرنے کے لیے ترسیل زر پر نطر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پیٹرول کی قیمتوں میں عالمی منڈی میں ہونے والے اضافہ کو پوری طور پر صارفین کو منتقل نہیں کیا اور پٹرول کی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے مختلف تجاویز زیر غور ہیں۔ ان میں سے ایک تجویز سی این جی کا زیادہ استعمال ہے اور دوسرا سرکاری دفتروں میں چھ کے بجائے پانچ دن کام کیا جائے اور دو ہفتہ وار تعطیل کی جائیں جس سے پٹرول کی کھپت کم ہوگی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||