بھارتی بکرے پاکستان میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سوا دو سو کے قریب بھارتی بکروں کی پہلی کھیپ پاکستان پہنچ گئی ہے۔ بھارت سے بکروں کی درآمد ایک باضابطہ تجارتی معاہدے کے تحت ہوئی ہے۔ پاکستانی قصاب اور درآمد کنندگان منگل کی صبح ہی بکروں کو لانے کے لیے واہگہ سرحد پر پہنچ گے تھے ۔ بکروں کے پاکستانی درآمد کنندہ یونس قریشی نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان کے درآمد کنندگان کو کو فی الحال تیس ہزار بکرے درآمد کرنے کی اجازت ملی ہے لیکن پاکستان میں گوشت کی ضروریات کو دیکھتے ہوئے خیال ہے کہ ایک سال میں پانچ لاکھ بھیڑ بکریاں پاکستان درآمد کی جاسکتی ہیں۔ بکروں کے ساتھ ساتھ بیل اور بھینسوں کی درآمد کا فیصلہ بھی چند مہینے پہلے ہوگیا تھا لیکن ضابطے کی کارروائیاں اس تجارت کی راہ میں حائل رہی ہیں۔ کراچی کے ایک امپورٹر جہانگیر قریشی کے بھینسوں اوربکروں کے دو ریوڑ اس سے پہلے واہگہ باڈر سے واپس جاچکے ہیں۔ جہانگیر قریشی کہتے ہیں کہ بڑے مویشی یعنی بھینس اور بیل وغیرہ منگوانے کا بہت فائدہ ہے اور پاکستان میں اس سے ان جانوروں کےگوشت کی قیمت آدھی ہو سکتی ہے لیکن ہندو اکثریت کے دیس بھارت نے ابھی بڑے جانور زندہ برآمد کرنے کی باضابطہ اجازت نہیں دی۔ جہانگیر قریشی کا کہنا ہے کہ یہ تجویز بھی زیر غور ہے کہ بڑے جانوروں کا صرف گوشت پاکستان منگوایا جائے لیکن پھر پاکستان کے بعض حلقوں میں اس کے مذہبی اعتبار سے درست ذبح ہونے پر اعتراض ہوسکتا ہے اس لیے فی الحال بڑے مویشیوں کی زندہ یا ان کے گوشت کی درآمد کا فیصلہ مؤخر کر دیا گیاہے اور ابتدائی طور پر صرف بھیڑ بکریاں منگوائی جارہی ہیں۔ ایک پاکستانی افسر اسد الہٰی کا کہنا ہے کہ کم از کم بکروں کی درآمد میں تمام رکاوٹیں بظاہر دور ہوگئی ہیں۔ اگر ان کا یہ خیال درست ہے تو پھر امکان ہے کہ منگل کو ہی یہ بھیڑ بکریاں پاکستان میں داخل ہوجائیں گی اور مختلف طبی معائنوں سے گزرنےکے بعد ذبح ہوکر کل پرسوں تک قصابوں کی دکانوں میں موجود ہوں گی۔ پاکستان گوشت خوروں کا ملک ہے اس لیے بھارت کے مقابلے میں پاکستان میں گوشت کے نرخ خاصے زیادہ ہیں اور یہاں شہروں میں بکرے کے گوشت کی قیمت دو سو بیس روپے فی کلو تک ہے۔ پاکستان میں قصابوں کی تنظیم کے عہدیدار یونس قریشی کا کہنا ہے کہ اگر بھارت سے بھیڑ بکریوں کی باقاعدہ درآمد شروع ہوگئی تو چھوٹے گوشت کی قیمت میں دس سے پندرہ فی صد تک کمی ہو سکتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||