پاکستان بھارت: تجارت میں اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے دارالحکومت دلی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت کو فروغ دینے کے لیے ہونے والے مذاکرات کے بعد دونوں ملکوں کے حکام نے بینکنگ کو فروغ دینے کے لیے ایک دوسرے کے ملکوں میں بینک کھولنے پر اتفاق کیا ہے۔ دو روزہ مذاکرات کے بعد بھارت اور پاکستان کے کامرس سیکریٹریوں نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی رشتوں کومزید بہتر کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان روز بروز کی تجارت میں زبردست اضافہ ہوا ہے اور اسے فروغ دینے کے لیے ہر ممکن راستوں کی تلاش جاری رہے گی۔ بات چیت کے اختتام پر جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی رشتے پہلے سے ہیں لیکن اسکو توسیع دینے کی ضرورت ہے۔ پاکستانی وفد کے سربراہ آصف شاہ نے کہا کہ اس سلسلے میں اصولی نکتوں پر بات چيت کامیاب رہی ہے۔ آصف شاہ نے مشترکہ بیان کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’ ہم نے شہری ہوابازی کے متعلق آئندہ ستمبر میں بات چیت پر اتفاق کیا ہے تاکہ موجودہ فضائی سروس پر ازسرنوغور کیا جاسکے۔ اسی طرح جہاز رانی کے پرانے معاہدے پر نظر ثانی کے لیے پاکستان میں آئندہ ماہ بات چیت ہوگی۔ دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کی سرزمین پر بینک کھولنے پراتفاق کیا تھا اور اس پر جلدی ہی عمل کیا جائیگا۔‘ آصف شاہ نے مزید کہا کہ ’دونوں ملکوں نے تجارت کو فروغ دینے کے لے جو مشترکہ اسٹڈی گروپ تشکیل دیا تھا اسکی بھی جلدی ہی اسلام آباد میں مٹینگ ہوگی۔ یہ گروپ کسٹم اور ٹیرف کے متعلق اپنی رپورٹ دیگا اور اسکی جو سفارشات ہونگی ان پر بھی غور کیا جائیگا۔‘ انکا کہنا تھاکہ سیکیورٹیز ایکسچینج آف انڈیا اور سیکیورٹیز اکسچینج کمیشن آف پاکستان کے درمیان مذاکرات کے دوران ایک معاہدے پر اتفاق کیا ہے۔ اس سے دونوں کو ملکوں کو فائدہ ہوگا۔ آصف شاہ کا کہنا تھا کہ لاہور اور امرتسر کے درمیان جس فائبر آپٹک لنک کی بات کہی گئی تھی اسے جلد از جلد بچھانے پر اتفاق ہوگیا ہےاور اسے جلد کارآمد بنانے پر بھی بات ہوئی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں آصف شاہ نے کہا کہ پسندیدہ ترین ملک قرار دینے کا مطلب دونوں کے درمیان تجارت کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینا ہوتا ہے اورانڈیا و پاکستان کے درمیان تجارت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ انکا کہنا تھا جاری سال میں جو تخمینے ہیں اس کے مطابق زیادہ سامان بھارت سے پاکستان گیا ہے اور فائدہ بھی بھارت کو زیادہ ہوا ہے۔ بات چیت میں بھارتی وفد کی قیادت کامرس سیکریٹری ایس این مینن کررہے تھے۔ مینن کا کہنا تھا کہ ’بات چیت بڑے خوشگوار ماحول میں ہوئی ہے۔ دونوں ملکوں کے تجارتی رشتے مضبوط ہوتے جارہے ہیں۔ یہ مثبت اشارے ہیں۔‘ انہوں کہا کہ اب تو بہت سی اشیاء واہگ بارڈر سے پاکستان جارہی ہیں اور کوشش یہ ہے کہ تجارتی روکاوٹیں مزیدکم ہوجائیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||