قونصلیٹ: کراچی ممبئی جنوری سے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے خارجہ سیکریٹری شیام سرن نے بتایا ہے کہ جامع مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں ہونے والی بات چیت کے نتائج سے دونوں وزراء خارجہ مطمئن ہیں۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ پہلے مرحلے کی نسبت دوسرے مرحلے میں زیادہ پیش رفت ہوئی ہے اور آئندہ سال جنوری سے جولائی تک ہونے والے تیسرے مرحلے کی بات چیت میں اور بہتری آئے گی۔ ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ ان کوشش ہے کراچی اور بمبئی کے قونصل خانے آئندہ سال جنوری میں کام کرنا شروع کردیں تاکہ عوام کو ویزہ کے حصول میں آسانی ہو۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں وہ اپنے قونصل خانے کی مرمت وغیرہ کا کام کرا رہے ہیں جس کا جائزہ لینے کے لیے وزیر خارجہ نٹور سنگھ منگل کی شام کراچی پہنچ رہے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان نے بمبئی میں ایک پلاٹ کی نشاندہی کی ہے اور عمارت تعمیر ہونے تک کرائے پر جگہ لینے کی بھی بات ہو رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شدت پسندوں کے سرحد پار کرنے کے بارے میں وہ پاکستان حکومت کی کرائی گئی یقین دہانیوں کا خیرمقدم کرتے ہیں اور سجھتے ہیں کہ اگر دہشت گردی کا کوئی بڑا واقعہ ہوگیا تو امن مذاکرات متاثر ہوسکتے ہیں۔ شیام سرن نے کہا کہ مسئلہ جموں و کشمیر کے بارے میں ان کا موقف واضح ہے کہ وہ سرحدیں تبدیل کرنے کے حق میں نہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے لیے قابل قبول حل نکالنے کے بارے میں کئی تجاویز زیر غور ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کشمیر اور سکیورٹی کے موضوعات پر پرفضا مقام نتھیا گلی میں وزراء خارجہ کے درمیان بات چیت ہوئی جس میں دونوں ممالک کے خارجہ سیکریٹری اور ہائی کمشنرز بھی شریک تھے۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر کے حل کے متعلق پیش رفت کے بارے میں کوئی تفصیل تو نہیں بتائی البتہ اس بارے میں ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ نتھیا گلی تاریخی جگہ ہے اور وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے بڑا مزیدار کھانا کھلایا۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل سمیت وہ سمجھتے ہیں کہ دونوں ممالک کی سوچ میں کوئی بڑا خلیج نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سن دوہزار چار کے مقابلے میں حالات بہت بہتر ہیں اور ساتھ انہوں نے قیدیوں کے تبادلے، بس سروس کی بحالی، تجارتی تعاون بڑھانے، عوامی رابطوں میں اضافے سمیت مختلف اعتماد سازی کے اقدامات گنوائے اور کہا کہ یہ سب مثبت پیش رفت ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ مذاکرات کو ابھی دو سال بھی نہیں ہوئے اور ہم کیوں بے صبرے ہورہے ہیں؟ ان کے مطابق مذاکرات سے تعلقات بہتر ہو رہے ہیں اور دونوں ممالک اپنے پیچیدہ ماضی کے ورثے سے نمٹ رہے ہیں۔ بھارتی سکریٹری خارجہ نے بتایا کہ دونوں ممالک نے اتفاق کیا ہے کہ آئندہ کسی بھی ملک کے شہری کی گرفتاری کی صورت میں جلد ایک دوسرے کو اطلاع دی جائے گی اور تین ماہ کے اندر سفارتی عملے کو ان سے ملاقات کی اجازت دی جائے گی اور سزا مکمل کرنے والوں کو فوری طور پر وطن روانہ کیا جائے گا۔ ان کے مطابق مزید تیس پاکستانی قیدی جلد بھارت سے رہا ہوں گے۔ تاہم حا ہی میں رہائی پاکر آنے والے قیدیوں کے ذہنی توازن ٹھیک نہ ہونے کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ وقت الزام لگانے کا نہیں بلکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر متاثرہ افراد کی مدد کا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سے ’ٹرانزٹ ٹریڈ‘ کے لیے زمینی راستہ ملنے کے بارے میں بھی پاکستان سے بات چیت ہوئی ہے اور وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستان حکومت اس معاملے پر غور کرے گی۔ سیاچین سے فوجیں ہٹانے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ مسئلہ حل تو نہیں ہوا البتہ اس طرف پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں ممالک نے تجاویز کا تبادلہ کیا ہے۔ بھارت کے سکریٹری خارجہ نے کہا کہ سولہ سال بعد دونوں ممالک کے درمیان قائم اقتصادی کمیشن بحال ہوا ہے اور اس کا پہلا اجلاس منگل کو ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق اس فورم سے زراعت، تجارت، ٹیلی کام سیکٹر سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کے بارے میں معاملات آگے چلانے میں مدد ملے گی۔ بھارت کے وزیر خارجہ نے شام گئے پاکستان کے سابق سفارتکاروں صاحب زادہ یعقوب علی خان، آغا شاہی، نیاز اے نائیک، شہریار خان، ہمایوں خان اور ریاض کھوکھر سے ملاقات کی۔ ادھر پاکستان کے سیکریٹری خارجہ ریاض محمد خان نے بھی پریس کانفرنس کی ہے جس میں انہوں نے کہا کہ بھارت نے سیاچین سے فوجیں ہٹانے کے لیے ایک نئی تجویز پیش کی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس بارے میں منگل کو جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں ذکر ہوگا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ بھارت کہتا ہے کہ کشمیر کی سرحدیں تبدیل نہیں ہوں گی اور اس کے باوجود بھی پاکستان مثبت پیش رفت کی بات کر رہا ہے تو آخر اس کی بنیاد کیا ہے تو اس پر انہوں نے کہا کہ جب دونوں ممالک کے نمائندے اس بارے میں اپنے موقف سے ہٹ کر سوچتے ہیں تو ظاہر ہے کہ کوئی نہ کوئی درمیانی راستہ نکلے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||