قربتیں اور فاصلے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل مشرف کی والدہ تواپنا آبائی شہر اور تعلیمی ادارہ دیکھنے بھارت کےشہر دہلی جارہی ہیں لیکن بھارت میں بھی ایسے بہت سے لوگ ہیں جو پاکستان سے ہجرت کرگئے تھے اور اب بھی اپنے آبائی شہر کو ایک بار دیکھنے کے لیے تڑپ رہے ہیں۔ پاکستان سے کرکٹ ویزے پر بھارتی پنجاب جانے والے پاکستانیوں کو ایسے بہت سے سکھ اور ہندو ملے جو آج بھی ماضی کے ان دنوں سے باہر نہیں نکل پا ئے جب وہ ان علاقوں میں رہتے تھے جو آج پاکستان کا حصہ ہیں۔ بھارت میں سکھ راہ چلتے پاکستانیوں کو روک کر پاکستان کا حال پوچھتے ہیں اور بعض بزرگ سکھ پاکستان میں گذارے اپنے ایام کا ذکر کرتے ہوئے رو بھی پڑتے ہیں۔ نہرو نگر، روپڑ، بھارتی پنجاب کے رہائشی جوگندر سنگھ اوبرائے کو جب پتہ چلا کہ پاکستانی آ رہے ہیں تو وہ شام ہوتے ہی للی ری زورٹ بس سٹاپ پر جا کھڑے ہوۓ اور دوسرے سکھوں کی طرح ہاتھوں میں پھولوں کا ہار لیے پاکستانی مسافروں کی بس کا انتظار کرتے رہے اور جب رات ڈھلنے کے باوجود کوئی نہ آیا تو مایوس واپس چلےگئے۔ اگلے روز ان کے بیٹے ایک سرکاری ریسٹ ہاؤس میں ٹھہرے ایک پاکستانی خاندان (مجھے اور میرے اہل خانہ) کو ان کے لئے ڈھونڈ ہی لائے۔ جوگندر سنگھ نے کہاکہ انہیں اس بات سے ہی سکون مل گیا ہے کہ اس دھرتی سے کوئی انہیں ملنے کے لیے آگیا ہے۔ پینسٹھ سالہ جوگندر سنگھ ایک ریٹارئرڈ سرکاری ملازم اور ایک متمول بزنس مین ہیں لیکن وہ بات کرتے ہوئے کئی بار آبدیدہ ہوئے اور فرط جذبات سے ٹوٹے پھوٹے جملے ادا کرتے رہے۔
وہ سابقہ لائل پور اور موجودہ فیصل آباد کے ستیانہ گاؤں سے ہجرت کرکے بھارت آۓ تھے لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ مجبوری کا فیصلہ تھا اور انہیں آج بھی اپنا گاؤں نہیں بھولتا۔ انہوں نے اس بات پر بھی رنج کا اظہار کیا کہ پنجاب کے دوٹکڑے ہوگئے انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ نظریات الگ ہوسکتے ہیں دیش الگ ہوسکتے ہیں لیکن خون کارنگ ایک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی جنم بھومی کو دیکھنے کے لیے ترس رہے ہیں اور جب بھی امرتسر جاتے ہیں سرحد تک ضرورجاتے ہیں کیونکہ پاکستان کی جانب سے آنے والی ہوا سے بھی انہیں سکون ملتا ہے کیونکہ وہ اس دھرتی کو چھو کر آتی ہے جہاں انکی ماں نے انہیں جنم دیا تھا۔ جوگندر تو آٹھ سال کے تھے جب انہوں نے پاکستان چھوڑ ا لیکن انہی کے گاؤں کے رگھبیر سنگھ چھبیس سال کے تھے جب وہ پاکستان کے گاؤں چک چھ سو پچپن گنڈاپور بچیانہ کو چھوڑ کر بھارت آبسے۔ انہوں نے کہا کہ بس مجھے کسی پاکستانی کے پاس بٹھا دو ملاقات کے دوران وہ مسلسل روتے رہے ۔ان کے آنسو خشک کرکے جب ان سے سوال کیا گیا کہ آپ کو پاکستان کی کیا چیز سب سے زیادہ یاد آتی ہے؟ تو رگھبیر سنگھ بولے ’پیار بہت یاد آؤندا اے ‘۔ وہاں سب ایک تھے نہ کوئی ذات پات نہ کوئی چھوٹا بڑا ہم دوست آپس میں کشتی لڑتے تھے آکٹھے گھومتے پھرتے، میلے پر جاتے اور کبڈی کھیلتے تھے۔ ہمارا ایک دوست ٹانگے پر ہمیں پورے لاہور کی سیر کراتا تھا۔ مجھے شامو بہت یاد آتا ہے ہم اکٹھے کھیلتے تھے پتہ نہیں شامو زندہ ہے یا مرگیا۔وہ عیسائیوں کا لڑکا ہوتا تھا اور تیلی کا منڈا دینا تھا اور مسلمان لوہاروں کا لڑکا جمعہ بھی تو تھا۔ بس ہم سب دوست بھائیوں کی طرح رہتے تھے۔
یہ کہہ کر وہ پھر رونے لگے انہوں نے کہا کہ ’بس پاکستان سے آنے والے میرے پاس بیٹھے رہیں اس کے علاوہ مجھے نہ کچھ کہنا ہے اورنہ کچھ سننا ہے۔‘ کچھ دیر خاموش اور افسردہ بیٹھے رہنے کے بعد وہ اچانک کھڑے ہوئے مجھے سینے سے لگایا اور رونے لگے انہوں نے اپنے لرزتے بازوؤں سے مجھے اتنی زور سے بھینچا کہ میری آنکھیں بھی نم ناک ہوگئیں۔ یہ ان کے بازوؤں کی سختی نہیں بلکہ اس’ بوڑھے زور‘ میں موجود پیار کی طاقت تھی جس نے مجھے جذباتی کیا۔ مجھے ایسے بے شمار سکھ امرتسر، لدھیانہ ، چندی گڑھ، موہالی ، انبالہ ، شاہ آباد، جالندھر میں ملے جو پاکستانیوں سے اس لیے پیار کرتے ہیں کہ وہ ان کے یا ان کے والدین کے علاقوں سے آئے تھے۔ ایک خاتون بھوپندر کور نے ملتے ہی سب سے پہلے یہ سوال کیا کہ آپ کے خیال میں تقسیم ہند کے وقت پہلے بھارتی پنجاب میں ظلم شروع ہوا یا پاکستانیوں نے مظالم ڈھانے شروع کیے؟
جب ایک پاکستانی خاتون نے کہا کہ ان کے علم کے مطابق پاکستان میں ہونے والی خوں ریزی ایک ردعمل تھا تو وہ اس بات پر متفق نظر آئیں ۔ انہوں نے بتایاکہ ان کے والدین راولپنڈی کے رہنے والے تھے اور جب مسلمان شدت پسند ان کے قتل کے درپے ہوئے تو ان کے ایک مسلمان پڑوسی نے ان کی جان بچائی۔ انہیں کئی روز مویشیوں کے باڑے میں بند کیے رکھا اور خطرہ ٹل جانے کے بعد انہیں وہاں سے نکالا اور والدہ کو ہولی فیملی ہسپتال میں داخل کرایا جہاں بھوپندر کور پیدا ہوئیں جس کے بعد وہی مسلمان خاندان انہیں بھارت کی سرحد تک چھوڑ کر آیا۔ بھوپندر کور چند روز کی تھیں جب ان کے والدین پاکستان سے ہجرت کر کے آئے لیکن انہوں نے کہا کہ وہ آج بھی اپنی جا ئے پیدائش ایک بار ضرور دیکھنا چاہتی ہیں۔
بھارتی پنجاب کے شہروں روپڑ، چندی گڑھ، موہالی، امرتسر، لدھیانہ ، صوبہ ہریانہ کے شہر انبالہ کے سفر کےدوران مجھے یوں محسوس ہوا جیسے ہر دوسرے یا تیسرے سکھ کا خاندان پاکستان چھوڑ کر آیا ہے ۔ چندی گڑھ کی جھیل کی سیر کےدوران ایک صاحب سؤرن سنگھ تہاڑ ملے اور لاکھ انکار کے باوجود اپنے نّوے سالہ والد سردار ہربنت سنگھ سےملوانے لدھیانہ لے گئے۔ ان کے والد فیصل آباد کے نواح میں واقع چک ستر کے باسی تھے۔ ضیعف العمری کے باوجود اپنے بچپن کے گلی کوچوں کی محبت میں پاکستانی خاندان سے ملنے چلے آۓ ۔ بھارتی پنجاب کے سکھوں نے موہالی ٹیسٹ کے دوران پاکستان سے آنے والے تماشائیوں سے جو بے پناہ محبت دکھائی اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ ان کے یا ان کے والدین کے آبائی علاقوں سے آ ئے تھے ۔ اس دورے سے اگر یہ نتیجہ اخذ کیا جا ئے کہ بظاہر ماضی پرستی یا نستیلیجیا کے شکار یہ سکھ پاکستان اور بھارت میں کم از کم عوام کی سطح پر اچھے تعلقات کی بنیاد بن سکتے ہیں تو شائد یہ کہنا بیجا نہ ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||