BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رزاق اور اکمل نے میچ بچا لیا

کامران اکمل
عبدالرزاق اور کامران نے ساتویں وکٹ کی شراکت میں قیمتی184 رنز کا اضافہ کیا
کامران اکمل کی پہلی ٹیسٹ سنچری اور عبدالرزاق کی اکہتر رنز کی شاندار اننگز کی بدولت پاکستان موہالی ٹیسٹ بغیر ہار جیت کے ختم کرنےمیں کامیاب ہوگیا۔

204 رنز کے خسارے کے ساتھ دوسری اننگز شروع کرنے والی پاکستانی ٹیم نے9 وکٹوں پر496 رنز بنائے جو کہ بھارت میں اس کا سب سے بڑا اسکور بھی ہے۔

اس سے قبل87-1986 کی سیریز کے مدراس ٹیسٹ میں پاکستان نے9 وکٹوں پر487 رنز بنائے تھے۔ بھارتی ٹیم کو ٹیسٹ جیتنے کےلیے293 رنز صرف25 اوورز میں بنانے تھے۔

کھیل ختم ہونے پر بھارت نے17 اوورز میں85 رنز بنائے تھے۔ سہواگ 36 رنز بنا کر یونس خان کی گیند پر کامران اکمل کے ہاتھوں اسٹمپ آؤٹ ہوئے۔

پاکستانی ٹیم کے لیے جو دس رنز پر تین وکٹیں گرجانے کے بعد شکست کےگرداب میں پھنس چکی تھی یہ نتیجہ کسی طور بھی جیت سے کم نہیں۔ کافی عرصے کے بعد پاکستانی ٹیم کی طرف سے اس طرح کی مشکل صورتحال میں لاجواب بیٹنگ پرفارمنس نظر آئی ہے جس نے اس دورے کے لیے اس کے مورال کو بلند کردیا ہے۔

کامران اکمل جنہوں نے آسٹریلیا کے حالیہ دورے میں کھیلی گئی ون ڈے سیریز میں اوپنر کی حیثیت سے ذمہ داری بخوبی نبھاتے ہوئے شاندار سنچری بھی اسکور کی تھی اپنے گیارہویں ٹیسٹ میں پہلی ٹیسٹ سنچری انتہائی مشکل حالات میں بڑے اعتماد سے بنائی۔

News image
عبدالرزاق پونے چھ گھنٹے تک بھارتی بولنگ کا سامنا کرتے رہے

عبدالرزاق اور کامران نے ساتویں وکٹ کی شراکت میں قیمتی184 رنز کا اضافہ کیا جو اس وکٹ پر بھارت کے خلاف پاکستان کی سب سے بڑی شراکت کا نیا ریکارڈ بھی ہے۔ اس سے قبل87-1986ء میں عمران خان اور اعجاز فقیہہ نے احمد آباد ٹیسٹ میں 154 رنز کا اضافہ کیا تھا۔

بھارت کو پہلی کامیابی 223 منٹ کے صبرآزما انتظار کے بعد اس وقت ملی جب کامران اکمل109 رنز بناکر بالاجی کی گیند پر متبادل فیلڈر ہربھجن سنگھ کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔ ان کی اننگز پندرہ چوکوں سے مزین تھی۔

کامران اکمل پاکستان کے دوسرے وکٹ کیپر ہیں جنہوں نے بھارت کے خلاف ٹیسٹ سنچری اسکور کی ہے۔61-1960ء میں امتیاز احمد نے مدراس ٹیسٹ میں135 رنز اسکور کیے تھے۔

عبدالرزاق پونے چھ گھنٹے کی ذمہ دارانہ اننگز کو تین ہندسوں میں تبدیل نہ کرسکے اور71 کے اسکور پر کمبلے کی گیند پر سلپ میں راہول ڈریوڈ کے ہاتھوں تیسری کوشش میں کیچ ہوگئے۔رانا نوید الحسن نے چھ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے ناقابل شکست38 رنز بنائے۔

جب محمد سمیع کو انیل کمبلے نے دس رنز پر اپنی ہی گیند پر کیچ کیا تو انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی 450 وکٹیں مکمل کرلیں۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے دنیا کے چوتھے بولر ہیں ان سے پہلے شین وارن ، مرلی دھرن، کورٹنی والش اور گلین میک گرا یہ اعزاز حاصل کرچکے ہیں۔

مین آف دی میچ کا ایوارڈ کامران اکمل کو دیا گیا۔تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا دوسرا ٹیسٹ سولہ مارچ سے ایڈن گارڈنز کولکتہ میں شروع ہوگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد