BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 10 March, 2005, 14:53 GMT 19:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تندولکر عالمی ریکارڈ نہ بنا سکے

سچن تندولکر
سچن تندولکر پینتیسویں سنچری بنا کر عالمی ریکارڈ قائم کر سکتے تھے
موہالی کے پی سی اے اسٹیڈیم میں پاک بھارت ٹیسٹ کے تیسرے دن ہر نگاہ سچن تندولکر کی عالمی ریکارڈ 35 ویں سنچری کی منتظر تھی لیکن یہ لمحہ نہ آسکا کیونکہ ماسٹر بیٹسمین اس قیمتی سنچری سے صرف چھ رنز کی دوری پر رہ گئے۔ اسی طرح دس ہزار رنز کی تکمیل کے لیے بھی انہیں کچھ اور انتظار کرنا پڑے گا جس کے لیے انہیں اب صرف27 رنز بنانے ہیں۔

اگر سچن تندولکر اپنی سنچری بنانے میں کامیاب ہو جاتے تو وہ سنیل گواسکر کا ریکارڈ توڑ کر دنیائے کرکٹ میں سب سے زیادہ ٹیسٹ سنچریاں بنانے والے کھلاڑی بن جاتے۔

پہلے سہواگ کی شاندار سنچری اور سچن تندولکر کی94 رنز کی عمدہ اننگز کے نتیجے میں بھارت نے موہالی ٹیسٹ کے تیسرے دن 6 وکٹوں کے نقصان پر447 رنز بنا لیے ہیں اس طرح اسے پاکستان کے اسکور پر135 رنز کی سبقت حاصل ہوچکی ہے۔

پاکستانی ٹیم اس لحاظ سے بدقسمت رہی کہ آٹھ کے انفرادی اسکور پر سچن تندولکر پیڈ اینڈ بیٹ آؤٹ تھے لیکن جنوبی افریقی امپائر روڈی کرٹزن نے انہیں آؤٹ نہیں دیا۔

وریندر سہواگ نے اپنے مخصوص جارحانہ انداز میں173 رنز کی شاندار اننگز کھیلی جو ان کی9 ویں سنچری ہے۔ وہ بارہ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے تین ہندسوں تک پہنچے لیکن راہول ڈراوڈ سات چوکوں کی مدد سے نصف سنچری مکمل کرنے کے بعد محمد سمیع کی گیند پر پوائنٹ پوزیشن پر عاصم کمال کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔انہوں نے سہواگ کے ساتھ دوسری وکٹ کی شراکت میں103 رنز کا اضافہ کیا۔

سہواگ
سہواگ کی جارحانہ اننگز جاری رہے

سہواگ جنہوں نے پاکستان کے خلاف ملتان میں بھارت کی پہلی ٹیسٹ ٹرپل سنچری اسکور کی تھی ایک اور بڑی اننگز کی طرف بڑھ رہے تھے مگر173 کے اسکور پر عبدالرزاق نے انہیں مڈ آن پر یوسف یوحنا کے ہاتھوں کیچ کرا دیا۔

سہواگ نے سچن تندولکر کے ساتھ تیسری وکٹ کے لیے بھی سنچری پارٹنرشپ قائم کرتے ہوئے118 رنز بنائے۔

کپتان سورو گنگولی21 رنز بنانے کے بعد دانش کنیریا کی گیند پر سلمان بٹ کے ہاتھوں کیچ ہوئے تو بھارت کا اسکور381 رنز تھا۔ گنگولی محمد سمیع کی گیند پر سلپ میں یونس خان کے ہاتھوں کیچ ہوئے لیکن وہ نوبال تھی۔ دو گیند بعد توفیق عمر نے پوائنٹ پر ان کا کیچ ڈراپ کر دیا۔

سچن تندولکر جو حالیہ دنوں میں کہنی کی تکلیف سے دوچار رہے ہیں بیٹنگ کے دوران مکمل فٹ اور ذہنی طور پر چوکس دکھائی دیئے۔ 94 رنز پر ان کی اننگز کا خاتمہ عاصم کمال نے رانا نوید کی گیند پر کیچ لے کر کردیا۔ ان کے آؤٹ ہونے کے بعد شائقین کی کافی بڑی تعداد میدان چھوڑ کر چلی گئی۔

دنیش کارتک کو چھ رنز پر محمد سمیع نے رانا نوید کے ہاتھوں کیچ کرادیا۔ کھیل کے اختتام پر لکشمن33 اور عرفان پٹھان ایک رن پر ناٹ آؤٹ تھے۔

بھارت کو پاکستان پر اب تئیس رنز کی برتری حاصل ہے اور اس کی سات وکٹیں باقی ہیں۔

پاکستان کی طرف سے دانش کنیریا اور محمد سمیع نے دو دو، رانا نوید اور عبدالرزاق نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

دوسرے دن کے مقابلے میں تیسرے دن پاکستانی بولرز کا کارکردگی نسبتا بہتر رہی۔ عاصم کمال نے دو کیچز کے ساتھ اپنی فیلڈنگ کے بارے میں منفی تاثر کی نفی کردی لیکن توفیق عمر اور سلمان بٹ کو باب وولمر کی بھرپور توجہ درکار ہے۔

موہالی ٹیسٹ کی دونوں ٹیمیں یہ ہیں۔

پاکستان۔ انضمام الحق ( کپتان) سلمان بٹ، توفیق عمر، یونس خان ، یوسف یوحنا، عاصم کمال، عبدالرزاق، کامران اکمل، محمد سمیع، رانا نویدالحسن اور دانش کنیریا۔

بھارت۔ سوروگنگولی ( کپتان) وریندر سہواگ، گوتم گمبھیر، راہول ڈریوڈ، سچن ٹنڈولکر، وی وی ایس لکشمن، دنیش کارتھک، عرفان پٹھان، انیل کمبلے، ظہیرخان اور بالاجی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد