پاکستانیوں کے لیے ویزے میں نرمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی حکومت نے پاکستانی شہریوں کو آسانی سے ویزا فراہم کرنےاور قیدیوں کی سفارت کاروں سے ملاقات کے لیے مزید اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ حکومت نےمقدس مقامات کی زیارت کرنے والوں اور علاج کے لیے آنے والے پاکستانی شہریوں کو باآسانی ویزہ فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم منموہن سنگھ کی قیادت میں کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیرِ دفاع پرنب مکھرجی نے کہا کہ نئی تجاویز پرمعاہدہ وزیرِخارجہ نٹور سنگھ کے آئندہ دورہ پاکستان میں کیا جائےگا۔ نٹور سنگھ دو اکتوبر کو اسلام آباد جا رہے ہیں۔ پرنب مکھرجی نے بتایا کہ دونوں ملک سال میں دو بار ، یکم جنوری اور یکم جولائی کو قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ کریں گے اور تین ماہ کے اندر سفارت کار سے ملنے کا وقت دیا جائےگا۔ اس سے قبل دونوں ممالک کے درمیان قیدیوں کی فہرست کے تبادلے کے لیے کوئی وقت متعین نہیں تھا۔ وزیر دفاع نے مزید بتایا کہ کہ ویزے میں نرمی کے لیے سنہ انیس سو چوہترکے پرانے معاہدے پر نظر ثانی کی جائےگی تاکہ دونوں ممالک کے شہری مقدس مقامات کی باآسانی زیارت کرسکیں۔ ہندوستانی وزیرِ خارجہ نٹور سنگھ اتوار کو اسلام آباد پہنچیں گے اور ان تمام امور پر اپنے پاکستانی ہم منصب خورشید محمود قصوری سے بات چیت کریں گے۔ ان کے ہمراہ ایک اعلٰی اختیاراتی وفد بھی ہو گا جس میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ دفاع اور وزارتِ مواصلات سمیت پانچ وزارتوں کے اعلٰی اہل کار شامل ہوں گے۔ اسلام آباد میں ہونے والی اس بات چیت میں سیاچن خطے سے فوج ہٹانے اور کشمیر کے پیچیدہ سوال پر خاص طور پر توجہ مرکوز کی جائیگی۔ پاک بھارت مذاکرات میں سست روی نٹور سنگھ اور خورشید قصوری کی ملاقات کا ایک اہم موضوع ہوگا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان اس امر پر بھی بات ہو گی کہ امن کے عمل کو تیز کیسے کیا جائے اور اعتماد سازی کے کون سے مزید اقدامات کیے جائیں۔ بھارتی وزیرِ خارجہ پاکستانی قیادت کو ہندوستان کی جانب سے یہ باور کرانے کی کوشش کریں گے کہ ہندوستان کی حکومت کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب معاملات کو جلد از جلد حل کرنے میں سنجیدہ ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||